خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 426
خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۶ خطبہ جمعہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۶۸ء ہوائے نفس کے نتیجہ میں خاموشی اختیار نہیں کرتا بلکہ وہ اس لئے خاموش رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ خاموش رہو مثلاً قرآن کریم کا درس ہو رہا ہے نماز ہو رہی ہے تو خدا کہتا ہے کہ خاموش رہو مجلس میں لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے ایک شخص بات کر رہا ہو تو اسلام کہتا ہے کہ دوسرے سب لوگ اس کی بات سنیں یہ نہیں کہ ساری عورتیں اکٹھی بولنے لگیں یا سارے مردا کٹھے بولنے لگیں۔غرض مرد اور عورت ہر دو کو یہ حکم ہے کہ دوسرے کی بات کو خاموشی سے سنو، ہر وقت بولنا، زیادہ بولنا، بے موقع بولنا اور بلا وجہ بولنا اسلام پسند نہیں کرتا اس نے ہزار قسم کی پابندیاں اس پر لگائی ہیں۔پھر ہمارے اندر نفرت اور رغبت کا جذبہ پایا جاتا ہے یہ ایک طبعی چیز ہے لیکن اس چیز کو بھی اندھیروں میں بہکتا ہوا نہیں چھوڑا گیا بلکہ قرآن کریم نے ایک نور پیدا کیا اور کہا کہ کسی شے سے اس وجہ سے ان حالات میں اور اس حد تک تم نفرت کر سکتے ہو پھر اس نے یہ کہا ہے کہ بدی سے نفرت کرو لیکن یہ نہیں کہا کہ تم بد سے نفرت کرو یہ ایک بڑا باریک فرق اور بار یک امتیاز ہے جو قرآن کریم نے پیدا کیا ہے پھر رغبت ہے ہمیں حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے محبت دوستی اور اخوت کے تعلقات کو ہم نے قائم رکھنا ہے۔پھر غصہ ہے، غصہ انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک طبعی امر ہے بعض جگہ اس کا نکالنا ضروری ہے اور بعض جگہ اس کا دبانا ضروری ہے جس طرح ایک گھوڑے کو لگام دی جاتی ہے اور وہ لگام اس کے سوار کے ہاتھ میں ہوتی ہے اسی طرح غصہ بھی انسان کے قابو میں ہونا چاہیے اور اس کا اظہار صرف اس وقت ہونا چاہیے، اس کا اظہار صرف اس رنگ میں ہونا چاہیے اس کا اظہار صرف اس حد تک ہونا چاہیے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے اور جہاں اس نے کہا ہے کہ غصہ کو روکو وہاں ہمیں کاظمین بن جانا چاہیے ہمیں غصہ کو روکنا چاہیے گویا اللہ تعالیٰ نے ایک نور یہاں بھی عطا کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہاں غصہ کا اظہار کرنا ہے اور یہاں اظہار نہیں کرنا اور یہ نور قرآن کریم کی ہدایت ہے اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو انسان کو عقل اور فراست عطا کرتی ہیں۔پھر غصہ کے مقابلہ میں خوشنودی ہے یہ بھی ہزار پابندیوں کے اندر ہے غرض ہمارے