خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 427

خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۷ خطبه جمعه ۱۳ ردسمبر ۱۹۶۸ء معاشرہ اور معیشت کے ہر پہلو کے متعلق اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے اور ہر پہلو کے بعض حصوں کو ہمارے لئے منور کر دیا ہے تا کہ ہم انہیں اختیار کریں اور بعض پہلوؤں کو اس نے ظلمات میں چھوڑا ہے تا ہماری نظر بھی ان پر نہ پڑے اس نے ہمارے لئے ان پر اندھیرا کر دیا ہے اور یہ لازمی امر ہے کہ جو بات اندھیرے میں ہوگی وہ ہمیں نظر نہیں آئے گی ہماری توجہ اس کی طرف نہیں ہوگی اسلامی تعلیم میں تربیت یافتہ ذہن اس چیز کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا جو خدا اور اس کے رسول کو نا پسندیدہ ہو۔پھر عزم و ہمت ہے بڑے بڑے ہمت والے دنیا میں پیدا ہوئے مگر ان کی ساری ہمتیں دنیا ہی میں صرف ہو گئیں انہوں نے فساد بپا کیا قتل و غارت کی راہوں کو اختیار کیا اور لعنتوں کا طوق اپنی گردن میں لئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔انسان نے ان کو بھلا دیا یا اگر اس نے یادرکھا تو لعنت سے یاد رکھا۔اس کے مقابلہ میں دین کے لئے بھی عزم اور ہمت کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے قرب کے مقامات کے حصول کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے بنی نوع سے ہمدردی اور خیر خواہی کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے اسلام کی ہدایات پر صبر اور استقامت سے قائم رہنے کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے۔غرض جہاں جہاں ایک مسلمان کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے قرآن کریم نے اس کی نشان دہی کر دی ہے اور جس غلط قسم کے عزم اور ہمت کے نتیجہ میں فساد پیدا ہوتا ہے اس سے اس نے ہمیں منع کر دیا ہے۔پھر توجہ اور دعا ہے قرآن کریم نے اس کے متعلق بھی ہمیں بڑے لطیف پیرا یہ میں ہدایات دی ہیں لیکن لوگ ان ہدایتوں کو بھول جاتے ہیں اگر کوئی بات جو انہیں پسند ہو اور جس کے لئے انہوں نے دعا کی ہو وہ قبول نہ ہو یا کوئی چیز جو انہیں پسند ہو وہ انہیں نہ ملے تو ان کے دل میں شکوہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ان بے شمار نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی دعا کے انہیں عطا کی ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کو گزار و دعا کے لئے بعض شرائط اس نے لگائی ہیں اس کے بعض طریق اس نے بتائے ہیں دعا کی حکمتیں اور فلسفہ اس نے ہمیں بتایا ہے جہاں اس نے یہ نہایت حسین اور انمول چیز ہمارے ہاتھ میں دی ہے