خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 417 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 417

خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۷ خطبہ جمعہ ۶ دسمبر ۱۹۶۸ء ناپاکیاں اور خلل اور فساد لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں۔ان تمام مفاسد کوروشن براہین سے دور کرتا ہے۔،، پھر اسی تسلسل میں آگے جا کر اصولی طور پر آپ نے بیان کیا۔بینائی دلی اور بصیرت قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے اور عقل کے اجمال کو تفصیل دینے والا اور اس کے نقصان کا جبر کرنے والا ہے۔اور اس آیت کے ایک معنی یہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں بیان کئے ہیں کہ قرآن کریم ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے احکام کی حکمتیں اور اس زمانہ کے فساد کو دور کرنے کے لئے جن دلائل کی ضرورت ہے وہ اپنے اندر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگ کھڑے کئے جاتے ہیں جنہیں یہ دلائل سکھائے جاتے ہیں پس اس برکت سے حصہ لینے کے لئے انتہائی جہاد تزکیۂ نفس کے حصول کے لئے اور نہایت متضرعانہ دعا ئیں اس مجاہدہ کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ فضل نہ کرے کوئی شخص اپنی طاقت یا زور یا علم یا فراست یا عقل سے خدا کی نگاہ میں اپنے آپ کو پاک اور مطہر نہیں بنا سکتا اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور جو اس کے فضل سے طہارت اور تزکیہ کے نہایت ہی اعلیٰ مقام کو حاصل کر لیتے ہیں اور ان پر قرآنی انوار اور قرآنی اسرار اور قرآنی معارف کے دروازے کچھ اس طرح کھولے جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک خارق عادت حیثیت رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے میں حضور کا ایک اقتباس اس وقت پڑھوں گا لیکن اس کے پڑھنے سے قبل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے خود اس مضمون کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ كَذلِكَ نُصَرِفُ الْأَيْتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسَتَ وَلِنُبَيِّنَةَ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔(الانعام : ١٠٦) یعنی ہم نے قرآن کریم کی آیتوں کو کئی طرح پھیر پھیر کے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ایک نُصَرِفُ الأليت تو اس طرح ہے کہ مختلف طبائع کو اپیل کرنے والی جو باتیں تھیں وہ مختلف طبائع کے لحاظ سے قرآن کریم نے بیان کر دیں تا کہ کوئی طبیعت خدا کے حضور یہ نہ کہے کہ میری فطرت کو تو