خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 408 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 408

خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۸ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء میں ملک اور قوم کی تعمیر ہوتی ہے پس جو لوگ قوم کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں توڑ پھوڑ کے ذریعہ یا لوٹ کے ذریعہ یا کوئی اور خرابی پیدا کرنے کے نتیجہ میں ، وہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کو توڑنے والے ہیں کیونکہ جہاں عقل ، اخلاق اور قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی دوسرے کی املاک کو یا قومی املاک کو نقصان پہنچایا جائے وہاں شریعت اسلامیہ اس سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ اس بات سے روکتی ہے کہ ان اموال کو نقصان پہنچایا جائے جو دوسروں کے ہیں یا خود اپنے ہیں کیونکہ اموال کے متعلق اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اصل ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے اسی لئے اسلام نے خود کشی کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ جان تیری نہیں جان تو خدا کی ہے تجھے کس نے حق دیا ہے کہ تو جان کو لے چاہے وہ تیری اپنی ہی کیوں نہ ہو اور اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی پلیٹ اور رکابی میں اتنا سالن نہ ڈالو کہ اس میں سے ایک لقمہ بھی ضائع ہو جائے کیونکہ کھانے کا جو لقمہ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے وہ تمہارا نہیں تم تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھا رہے تھے اس نے تمہیں اس لقمہ کو ضائع کرنے کا اختیار نہیں دیا غرض کھانے کے ایک لقمہ کا ضیاع بھی خدا اور اس کے رسول نے نا پسند کیا ہے کجا یہ کہ لاکھوں روپیہ کی املاک کو ضائع کر دیا جائے۔پس دوسرے کی املاک کو نقصان پہنچانے یا ان پر قابض ہو جانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک مہینہ ہوا میں نے اعلان کیا تھا کہ ربوہ میں ہر وہ دکان دار یا مکان والا جس نے غیر کی زمین پر ( جو نہ تو اس کی ذاتی ملکیت ہے اور نہ اس نے وہ کرایہ پر لی ہے ) دکان یا مکان بنایا ہوا ہے تو اسے اپنا وہ مکان یا دکان ۳۰ / نومبر تک اٹھا لینی چاہیے اور یہ میعاد اس لئے دی گئی تھی کہ ایسا کرنے پر کچھ وقت لگتا ہے اور ایسا حکم نہیں ملنا چاہیے جو طاقت سے بالا ہو۔اعلان کرتے وقت میرا اندازہ تھا کہ اس عرصہ میں ایسی دکانیں اور مکان اٹھائے جا سکتے ہیں اور کاروبار سمیٹے جا سکتے ہیں اب تو رمضان کی ذمہ داری بھی آگئی ہے رمضان کے مقدس مہینہ میں خصوصاً کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ جلسہ سالانہ کے بابرکت ایام میں اس بات کی اجازت کسی کو دی جا سکتی ہے کہ قرآن کریم کے احکام کے خلاف دوسرے کی ملکیت پر