خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 24 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 24

خطبات ناصر جلد دوم ۲۴ خطبہ جمعہ ۲۶ / جنوری ۱۹۶۸ء نازل کر رہا ہے اور یہ کہ ان فضلوں کا تعلق صرف ہمارے دلوں سے یا ہمارے خاندانوں یا ہمارے ماحول یا ہمارے شہروں سے نہیں بلکہ ساری دنیا سے ان کا تعلق ہے اور اس رنگ میں وہ فضل نازل ہو رہے ہیں کہ ہماری جبینِ نیاز اور بھی اس کے سامنے جھک جاتی ہے کہ جس چیز کی ہمیں ذرا بھی طاقت نہیں جس کے متعلق ہم وہم بھی نہیں کر سکتے کہ ہم اپنی طاقت سے یہ چیز کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی سے وہ باتیں ظاہر کر رہا ہے۔یہ انیس جنوری کا لکھا ہوا خط ہے۔امام کمال یوسف لکھتے ہیں کہ جس پادری نے ہمارے خلاف مضامین لکھے اس اخبار میں ایک ایڈیٹوریل سات مختلف مضامین پادری کے خلاف اور ہمارے حق میں چھپے ہیں (اور بہت سے خطوط بھی ) ایک خط سات دستخطوں سے چھپا ہے جس میں لکھا ہے کہ اگر پادری کی رائے اسلام کے خلاف اس کی ذاتی نہیں بلکہ اس کے چرچ کی رائے ہے تو ہم سات آدمی چرچ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں“۔ایک نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق ہم سے زیادہ بلند ہیں اس لئے پادری کا ایسا لکھنا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی گری ہوئی بات ہے۔” اور ایک خط کی سرخی ہے ” تعصب ایک خط کی سرخی ہے کہ میں بحیثیت عیسائی ایسے پادری کی وجہ سے سخت نادم ہوں“۔’ایک نے لکھا ہے کہ پادری کا یہ کہنا کہ اسلام تلوار سے پھیلا“ اس کی اپنی تاریخ سے نا واقفی کی علامت ہے۔ایڈیٹوریل کی سرخی ہے ”دی ڈوؤر ( وہ علاقہ جہاں ہماری مسجد ہے) میں مذہبی جنگ آج کا اخبار بھرا ہوا ہے اس علاقہ کے طلبا نے کثرت سے مسجد میں آنا شروع کر دیا ہے۔آج بھی ایک کلاس جمعہ کے وقت آ رہی ہے۔تقاریر کے لئے بھی کئی جگہ مدعو کیا گیا ہوں۔خط ختم کرنے کے بعد انہوں نے نوٹ دیا ہے۔ابھی ایک اور اخبار کا فون بھی آیا ہے۔بڑا مشہور اخبار ہے۔وہ غالباً اس پادری کے خلاف مضمون لکھ رہا ہے شائد رائے عامہ ہموار کر کے اس کو چرچ سے استعفیٰ دینے پر مجبور کرے کہ تو نے