خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 344

خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۴ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء عام سلوک ہو تو اس دنیا میں تو اس کا پیٹ بھر جائے گا مگر اس دنیا میں بھوک کیسے دور ہوگی یا مثلاً اس دنیا میں سورج کی تپش ہے اگر اسے ایک چھوٹا یا بڑا مکان مل گیا تو وہ اس تپش سے محفوظ ہو جائے گا لیکن اس دنیا میں جہنم کی آگ سے اسے کون بچائے گا ؟ اس دنیا میں اسے کوئی بیماری ہوئی تو کسی حکیم نے اسے روپیہ کی دوائی دے دی یا کسی ڈاکٹر نے دو ہزار روپیہ کی دوائی دے دی اور اسے آرام آگیا یہ درست ہے لیکن اس دنیا میں جہنم میں جو بیماری ظاہر ہوگی جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہوگی، کسی کو کوڑھ ہوا ہوا ہو گا۔کسی کو فالج ہو گا اور کسی کو پتہ نہیں کون سی بیماری ہو روحانی طور پر جو اس کی یہاں حالت تھی وہ وہاں ظاہر ہو رہی ہو گی ، وہاں کون ڈاکٹر اس کے علاج کے لئے آئے گا؟ پس انسان کو ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے اور ہمیں ہر قسم کی قربانیاں اس کی راہ میں دینی چاہئیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر ( مجھ پر بھی اور آپ پر بھی ) بڑا افضل کیا ہے اور ہمیں توفیق عطا کی ہے کہ ہم اس کے مسیح موعود پر ایمان لائیں اور اس کی راہ میں اس نیت سے قربانیاں دیں کہ اس کی رضا ہمیں حاصل ہو اور دنیا میں اسلام غالب آ جائے اس وقت غلبہ اسلام کے راستہ میں جتنی ضرورتیں بھی پیش آتی ہیں وہ آپ لوگوں نے ہی پوری کرنی ہیں۔اگر آپ ان ضرورتوں کو پورا نہیں کریں گے تو کھڑے ہو کر یہ تقریریں کرنا کہ اسلام کا غلبہ مقدر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا کہ ہمارے ذریعہ سے اسلام غالب آئے بے معنی چیز ہے، اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کو غالب تو کرے گا لیکن اگر ہم بحیثیت جماعت خلق جدید کے مستحق نہیں ٹھہریں گے تو دنیا میں کسی اور قوم میں خلق جدید کا نظارہ نظر آئے گا اسلام تو بہر حال غالب آئے گالیکن کیوں نہ وہ ہمارے ہاتھ سے غالب آئے، کیوں غیر ؟ اللہ کے فضلوں کے وارث بنیں اور ہم محروم رہ جائیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بھی اور ہماری بعد میں آنے والی نسلیں بھی اور وہ لوگ بھی جو ہمارے ساتھ بعد میں آکر شامل ہوں گے سارے ہی خدا کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کے انعامات کے مستحق ٹھہریں پس بخل کو دل سے نکال دینا چاہیے اور اس یقین کامل کے ساتھ نکال دینا چاہیے کہ خدا کی راہ میں بخل دکھا نا جہنم کو مول لینا ہے اور اس سے زیادہ شر اور کوئی ہے نہیں۔غرض اگر ہم خیر چاہتے ہیں تو ہمیں دل سے بخل نکالنا پڑے گا اور خدا تعالیٰ کے در پر کھڑے ہو کر