خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 290 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 290

خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۰ خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۶۸ء اپنے احساس کے لحاظ سے ان بیماریوں اور تکالیف کا آپ سے ذکر کروں گا جن میں سے میں گزرا ہوں آپ خاموشی سے میری بات سنتے رہیں اور جو بات نوٹ کرنے والی ہو وہ نوٹ کر لیں چنانچہ میرا خیال ہے کہ قریباً چالیس منٹ یا پچاس منٹ تک میں نے اپنے احساس کے مطابق اپنی تکالیف بیان کیں ان کے ایک نائب ان کے ساتھ تھے وہ بعض باتیں نوٹ کرتے رہے پھر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے ضرورت سے زیادہ خوراک کم کر دی ہے اور اس طرح ممکن ہے کہ ہمیں بیماری کا صحیح پتہ نہ لگے اس لئے آپ کل سے ٹیسٹ نہ کروا ئیں بلکہ آپ دو تین دن اپنے معمول کے مطابق کھانا کھائیں جو چیز پسند ہے وہ کھائیں اور میٹھا بھی کھا ئیں ان اشیا کا استعمال کریں جو آپ عام طور پر کرتے ہیں اس کے بعد ہم ٹیسٹ لیں گے چنانچہ دو تین دن کے بعد وہ آئے اور جب انہوں نے خون اور قارورہ کا ٹیسٹ لیا تو جوشکل بنی وہ یہ تھی۔نہار قارورہ میں اڑھائی فیصد شکر گلوکوز پینے کے نصف گھنٹہ کے بعد ۳ فیصد شکر ایک گھنٹہ کے بعد ساڑھے تین فیصد شکر ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ساڑھے تین فیصد شکر اور خون کی یہ شکل بنتی تھی کہ نہار ۹۵ کی بجائے ۲۱۰ گلوکوز آدھا گھنٹہ کے بعد ۳۴۵ گلوکوز ایک گھنٹہ کے بعد ۳۷۰ گلوکوز ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ۳۴۵ گلوکوز دو گھنٹے کے بعد ۲۸۰ گلوکوز اور عام حالات میں معمول کے مطابق خون میں گلوکوز کی مقدار ۹۵ ہے اس کو ٹالرینٹ ٹیسٹ کہتے ہیں غرض یہ گراف بنا جو میں نے بیان کر دیا ہے۔چونکہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے تعلق رکھنے والے ہیں اس لئے جب وہ دوبارہ مجھے ملنے کے لئے