خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 289
خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۹ خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۶۸ء اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں دُکھ اور تکالیف پہنچائی جائیں تو تم صبر کا ایسا نمونہ دکھاؤ جو معجزانہ رنگ رکھتا ہو خطبه جمعه فرموده ۱۳ رستمبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ سب قدرتوں کا مالک ہے اور ہر شفا کا منبع اس کی ذات ہے اس نے اپنے فضل اور رحم سے مجھے شفا عطا فرمائی ہے۔اَلْحَمدُ لِلهِ عَلَى ذلِكَ دوست بڑی محبت اور عاجزی سے دعائیں کرتے رہے ہیں میں بھی دعاؤں میں لگا رہا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ہماری دعاؤں کو قبول کیا اور ایسے رنگ میں قبول کیا کہ ظاہری آنکھ اسے ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتی۔جس وقت میں یہاں سے گیا تھا میری طبیعت بہت خراب تھی شکر کا نظام درست نہیں تھا اس کے علاوہ (جیسا کہ وہاں جا کر پتہ لگا اور گزشتہ سال جب میں یورپ کے دورہ پر گیا تو وہاں کے ایک ڈاکٹر نے بھی کہا تھا کہ خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی ہے اس کی فکر کرنی چاہیے ) پیشاب میں یورک ایسڈ زیادہ ہو گیا تھا پھر پیٹ میں تکلیف تھی جو ٹیسٹ میں ظاہر ہوئی۔کراچی میں ایک ڈاکٹر ہیں جن کا نام ڈاکٹر سید شوکت ہے ان کا میں نے علاج کے لئے انتخاب کیا تھا اس لئے کہ ان سے بے تکلفی ہے اور وہ بہت تعلق رکھتے ہیں میں ہر بات بغیر حجاب کے ان سے کر سکتا تھا چنانچہ جب پہلے دن وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے انہیں کہا کہ میں