خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 285
خطبات ناصر جلد دوم ایمان کا یہ ہے۔۲۸۵ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدً ا ( الاحزاب: اے ) اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ایمان یہ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں اپنے آپ کو لے آؤ اور تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ نہیں سکتے جب تک سچی اور سیدھی بات نہ کہو خالی سچی نہیں اسلام نے یہ نہیں کہا کہ سچی بات کہو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ نہ کہو مثلاً غیبت ہے سچی بات ہے لیکن کہا ہے کہ مت کرو کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام کا حکم ہے سچی بات کہو میں تو ہر جگہ یہ بات کروں گا کیونکہ یہ سچی ہے قرآن کریم نے خالی یہ نہیں کہا کہ سچی بات کرو قرآن کریم نے کہا ہے کہ سچی اور سیدھی بات کرو تو ہم کہیں گے یہ سیدھی ہے ہی نہیں کیونکہ اسلام نے منع کیا ہے ہر وہ چیز جس کو اسلام منع کرتا ہے وہ صراط مستقیم کا حصہ نہیں بن سکتی تو سیدھی نہیں ہے ہمیں اللہ نے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اے ایمان والو! اللہ کی حفاظت میں آؤ اور اللہ کی حفاظت میں تم آ نہیں سکتے جب تک تم سچی اور سیدھی بات نہ کرو میں نے دیکھا ہے بہت سے آدمیوں کی یہ عادت ہو جاتی ہے ٹیڑھی بات کرنے کی بے فائدہ بھی کرتے ہیں ایک ہمارے دوست تھے ان کی اس طرح عادت تھی ایک دفعہ میں نے مذاق میں کہا کہ یہ آپ نے کیا عادت ڈالی ہوئی ہے اصلاح کریں اپنی اور میں نے کہا کہ آپ کی عادت ایسی بن گئی ہے کہ یہ سرخ ٹوپی جو پہنی ہوئی ہے اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اس ٹوپی کا رنگ کیا ہے تو آپ ایک فقرے میں جواب نہیں دیں گے کہ اس کا رنگ سرخ ہے بلکہ کوئی اور کہانی شروع کر دیں گے اور بعد میں رنگ بتائیں گے اتنی تمہید کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ اچھا آپ بتا ئیں اس ٹوپی کا رنگ کیا ہے تو پھر انہوں نے کہانی شروع کر دی اس وقت میں نے ان کو تو جہ دلائی تو عادت پڑ چکی تھی اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے احتیاط کرنی چاہیے کہ انسان کو غلط عادتیں نہ پڑیں پھر ان کو چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے ابتدا ہی میں اگر ہم اچھی عادتیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ہمارے لئے اتنا مشکل نہیں لیکن بری عادتیں پڑ جانے کے بعد انہیں چھوڑ نا نسبتاً بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ایمان کا ایک تقاضا یہ ہے کہ قولِ سدید ہو سچی اور سیدھی بات ہو پھر فرمایا کہ ایمان کا ایک