خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 282
خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۲ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء کی راہ میں صدق وصفا د کھانے والے ہیں ان کی صحبت میں رہ کر ان جیسا بننے کی کوشش کرو تم بھی صادق بن جاؤ وفا کا تعلق صدق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم کرو اور چونکہ وہ ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے تمہیں ہدایت نصیب ہو جائے گی تمہارے لئے رحمت مقدر ہو جائے گی تو جہاں اس شخص کو چھوڑ نا ضروری ہے جو غلاظت کی راہوں کو اختیار کرتا ہے وہاں اس سے تعلق اخوت اور تعلق محبت استوار کرنا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدق وصفا کا نمونہ دکھاتا ہے اور اس طرح ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے جماعت مومنین روحانی مقامات بلند سے بلند حاصل کرتی چلی جاتی ہے۔تو ایمان کا ایک اور تقاضا خلافت کو قائم کریں گے خلافت کو قائم رکھیں گے ایک مختصر سا فقرہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے بچے جو اس وقت سامنے بیٹھے ہیں ان کی کثرت اس کی روح کو سمجھ نہیں سکتی جب تک کہ ان کے سامنے کھول کر اور بار بارا سے بیان نہ کیا جائے ایک تو نظام خلافت کی حفاظت کے یہ معنی ہیں کہ ہم اپنی ارواح کی حفاظت کریں گے کیونکہ قرآن کریم میں جو خلافت کا وعدہ دیا گیا ہے وہ یہ نہیں کہ تم جو مرضی ہے بن جانا میں خلافت کا سلسلہ قائم رکھوں گا بلکہ وعدہ یہ دیا گیا ہے اس کے برعکس وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ ( النور : ۵۶) کہ ایمان کے تقاضوں کو جب تک پورا کرتے رہو گے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرو گے کہ واقعی تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو اس وقت تک تم میں خلافت کا سلسلہ قائم رکھوں گا۔ایمان کا ایک اور تقاضا يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة : ۱۵۴) ایمان کا دعویٰ کرنے والا اگر اپنے دعوی میں سچا اور پختہ ہے تو ایمان کے اس تقاضا کو پورا کرنا ہوگا کہ ثبات قدم کے ساتھ ایمان پر قائم رہتے ہوئے دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو وہ تمہاری مدد کو آئے گا۔ایک شخص نور کو چھوڑ کر ظلمت کو اختیار کرتا ہے ایک شخص سکون کی راہوں کو ترک کرتا اور دیکھ اور عذاب کی راہوں کو اختیار کرتا ہے ایک شخص اپنے رب کی طرف پیٹھ کر لیتا ہے اور شیطان کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے وہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ جس نے بچپن سے قرآن کریم کی تعلیم کو سیکھا یہ بہت بڑا حادثہ ہے۔ایک وہ وقت تھا کہ اگر ایک آدمی اسلام سے مرتد ہو جا تا تھا تو قیامت بپا