خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 278

خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۸ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء غضب بھڑکتا ہے پھر سورۃة حج میں فرمایا يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (الحج : ۷۸ ) تو بہ کے بعد تمہارے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قرب کی راہوں کو تلاش کرو اور نیکیاں بجالاؤ تاکہ وہ تمہیں اپنا مقرب بنالے اس کے سامنے جھکو ذلت سے انکساری کے ساتھ اپنی کمزوریاں اس کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان کمزوریوں کو دُور کرنے اور اس سے طاقت حاصل کرنے کے لئے دعا ئیں کرو۔غرضیکہ عبودیت کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرو وَاعْبُدُوا رَبَّكُمُ۔پھر فرمایا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (الاحزاب: ۴۲) عبادت اگر کرنا چاہتے ہو تو ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول رہو یہ مشکل بھی ہے اور سہل بھی ہے ان لوگوں کے لئے مشکل ہے جو اس کی اہمیت کو اور اس کے اثرات کو پہچانتے نہیں اور ان لوگوں کے لئے آسان ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہر وہ لحظہ جو ہم نے اپنے رب کی یاد میں نہیں گزار اوہ ضائع ہو گیا اور ممکن ہے کہ وہ ہماری ہلاکت کا باعث بنے۔یہ صحیح ہے کہ انسان اپنی زندگی میں بعض ایسے کام بھی کرتا ہے جب وہ ذکر الہی کر ہی نہیں سکتا مثلاً جب وہ سو جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نیند سے معا پہلے اگر انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے اور ذکر کرتے ہوئے سو جائے تو یہ سونے کے اوقات بھی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے ہی سمجھے جاتے ہیں جیسے کہ وہ ذکر میں مشغول ہے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس پر اور اس کی رحمت ہے پھر بعض ایسے کام ہیں کہ اس میں وہ پوری توجہ نہیں دے سکتا مثلاً ایک شخص موٹر چلا رہا ہے اگر اس کی توجہ بہک جائے تو کسی انسان کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے عادت سے شاید وہ کر لے گا لیکن جن کو عادت نہیں ہے وہ اس وقت اس کے ذکر سے معذور ہوں گے اور مجبور ہوں گے کہ وہ اس وقت ذکر نہ کریں لیکن بہت سے کام ہیں کہ جو انسان کرتا بھی ہے اور ان کاموں کے ساتھ خدا کا ذکر بھی کرتا رہتا ہے اور کام میں کسی قسم کا حرج پیدا نہیں ہوتا ایک دفعہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ جب میں دستخط کر رہا ہوتا ہوں تو ساتھ ذکر بھی کر رہا ہوتا ہوں تو دستخط کرنے کے راستہ میں ذکر الہی روک نہیں بنتا کیونکہ دستخط ہاتھوں نے کرنے ہوتے ہیں بعض وقت سوسو دو دوسو دستخط کرنے پڑتے ہیں یا جب قلم میں سیاہی بھری جائے اب یہ ایسا کام نہیں ہے کہ سیا ہی بھر نے میں ساری توجہ اس کی طرف دینی پڑے ورنہ کسی کی جان یا کسی صحت ضائع ہونے کا خطرہ