خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 272
خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۲ خطبه جمعه ۳۰/اگست ۱۹۶۸ء اپنی رحمت کے دروازے اس کے لئے کھول دے گا۔لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ایسے منافق کو ظاہری دعوی کے باوجود جہنم میں جانا پڑے گا کیونکہ انسان کے زبانی دعوے کچھ بھی کام نہیں آتے۔تقومی کی روح اور صلاحیت والے اعمال اور استقامت رکھنے والا دل اور ایثار پیشہ شخص جو ہے وہ خدا تعالیٰ کو پیارا ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان پر رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میرے اس بندے نے مجھ سے ایک عہد باندھا میں نے اسے ہر طرح آزمایا۔میں نے شیطان کو کہا کہ اس کو جسمانی تکلیف دو۔شیطان نے اس کو جسمانی تکالیف پہنچا ئیں تو میرے بندے نے کہا کہ میں ان تکالیف کی کیا پروا کرتا ہوں اگر ان تکالیف کو اٹھا کر میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے۔میں نے شیطان کو کہا کہ اس کو مالی ابتلا میں ڈال دے۔میرے بندے نے کہا کہ کچھ مال کیا اگر سارا مال بھی قربان ہو جائے تو میں اپنے رب کے دامن کو چھوڑوں گا نہیں۔ہر قسم کا حیلہ اور حربہ جو شیطان نے میری اجازت سے( کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اجازت دی ہوئی ہے ) اس بندے کے خلاف استعمال کیا اور شیطان نے دیکھا اور میں نے پایا کہ میرا وہ بندہ مجھ سے سچا اور حقیقی اور پختہ تعلق رکھتا ہے تب میں ایسے شخص پر اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہوں۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کا دل خدا تعالیٰ کو ایسا ہی پیارا ہوجیسا کہ وہ دل اسے پیارے ہیں جن کا ذکر خدا تعالیٰ نے سورۃ احزاب کی ان آیات میں کیا ہے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )