خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 257 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 257

خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۷ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء ایک چھوٹا سا حصہ بھی باقی نہیں رہا اور اس فضیلت کی چابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اس تالے کے اوپر خدا کے فرشتوں کا پہرہ ہے اگر کوئی شخص اس خزانے میں داخل ہو کر اس خزانے سے حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی کنجی حاصل کرے پھر اس کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ خزانہ کو کھولے اور اس میں داخل ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چابی اس خزانہ کے لئے دی گئی ہے اس کا نام ہے۔أسوة رسول“ یہی چابی ہے جس سے معرفت کے خزانے کھولے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اسے یہ یا درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے قیام سے پہلے اس کی ذات اور اس کی صفات کا عرفان ضروری ہے اور یہ معرفت حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس معرفت کے خزانہ کی چابی اس کے پاس نہ ہو اور چابی اس کو ملتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے پس اگر تم خدا سے زندہ تعلق رکھنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس اُسوہ کو اپناؤ اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو گزار و اور اپنے ماحول میں بھی اسے قائم کرنے کی کوشش کرو۔971 لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللہ کے چوتھے معنی یہ ہیں کہ جوشخص بھی سچی نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی پیروی کرے کیونکہ آپ کی پیروی ہی کے نتیجہ میں ظلماتی پر دے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفصیل سے اس پر بڑی روشنی ڈالی ہے کہ اس وہم میں مبتلا رہنا کہ اس دنیوی زندگی میں بے شک ہم ہر قسم کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں اُخروی زندگی میں ہمیں نور ملے گا اور نجات حاصل ہوگی یہ غلط ہے جس شخص کو وہاں جنت ملتی ہے اس کو اس دنیا میں بھی جنت ملتی ہے جس شخص کو وہاں نور حاصل ہونا ہے اس کے لئے نور کے سامان اسی دنیا میں پیدا کئے جاتے ہیں جس نے وہاں نجات حاصل کرنی ہے اس کے لئے نجات کے آثار اسی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آنے لگ جاتے ہیں اور ایسا شخص جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں