خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 253
خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۳ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے فرمائی:۔خطبه جمعه فرموده ۲۳ اگست ۱۹۶۸ء بمقام احمد یہ ہال۔کراچی / تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِكُم مِّنَ اللهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۖ وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا - (الاحزاب: ۱۸) لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا - (الاحزاب : ۲۲) پھر فرمایا:۔پچھلے خطبوں میں میں نے بتایا تھا کہ سورۃ احزاب کی اٹھارہویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ اگر وہ دکھ اور عذاب کا اور رحمت سے محرومی کا فیصلہ کسی فرد یا کسی قوم کے متعلق کرے تو اس محرومی سے دنیا کی کوئی طاقت اسے نجات نہیں دلا سکتی اور اگر اس کا فیصلہ کسی کے حق میں رحمت کا ہو تو دنیا میں کون ہے جو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر سکے۔او ارادَ بِكُمْ رَحْمَةً کے متعلق قرآن کریم میں متعدد جگہ بہت سی اصولی باتیں اور بہت سی