خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد دوم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۱۶ راگست ۱۹۶۸ء جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے لئے روشن ہدایت اور رحمت کے دروازے کھلیں گے کیونکہ قرآن کریم کا یہ عام محاورہ ہے کہ بعض جگہ جہاں منفی اور مثبت مضمون بالمقابل ایک دوسرے کے بیان ہوں تو ایک کا ذکر کر دیا جاتا ہے اور دوسرا اس سے واضح ہوتا ہے۔یہاں بھی یہی بات واضح ہے کیونکہ اس آیت کی رُو سے عصیان کا نتیجہ ضلالت ہے تو جو عصیان نہیں کرتا بلکہ اطاعت کرتا ہے جو بشاشت قلبی کے ساتھ خدا اور اس کے رسول اور آپ کے نائبین خلفاء یا جو دوسرے امراء ہیں ان کی باتوں کو مانتا ہے ضلالت کے مقابلہ میں جو چیز ہے وہ اسے ملتی ہے ضلالت کے مقابلہ میں ہدایت ہے اور ہدایت کے نتیجہ میں رحمت نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ اگر تم میری رحمت کا وارث بننا چاہتے ہو تو وہ معروف فیصلہ جو خدا کے احکام کی روشنی میں اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتا ہے یا اس کے خلفاء یا امراء کرتے ہیں انہیں بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کر و عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ اس کے بغیر کوئی اتحاد اور یک جہتی قائم نہیں رہ سکتی پھر تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جو فیصلہ مجھے پسند آیا اسے میں قبول کر لیتا ہوں اور جو فیصلہ میرے نفس کی خواہش کے خلاف ہے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہوں اگر مومنوں کی یہی ذہنیت ہوتو پھر مومنوں کی جماعت نہیں بن سکتی ( بلکہ مومن بھی نہیں رہ سکتے ) کیونکہ جماعت کے مفہوم میں یہ بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قسم کا شدید لگاؤ اور اتنا گہرا اور شدید تعلق ہو کہ آپ سے ذرہ بھر دُوری بھی نا قابل برداشت ہو جائے اس روح کے لئے جس کا تعلق اس قسم کا آپ سے ہے اور اگر واقعہ میں اس قسم کا تعلق ہو تو پھر بشاشت اس میں پیدا ہوگی اور انسان کا نفس یہ کہے گا انسان کی عقل اور روح یہ کہے گی کہ اے میرے نفس میں تیرے دھوکہ میں نہیں آ سکتا کیونکہ جس کا فیصلہ میرے متعلق اس رنگ میں ہوا ہے وہ اے میرے نفس تجھ سے زیادہ مجھے پیارا ہے اور میرے نزدیک تجھ سے زیادہ سمجھدار ہے اور میرے نزدیک خدا تعالیٰ کا زیادہ مقترب ہے ، وہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ اے نفس ! تیرے مقابلہ میں وہ پاک وجود خدا کی رحمتوں کا زیادہ وارث ہے اور میں جانتا ہوں کہ میں اپنے نفس کی ہر خواہش کو ٹھکرا کے بھی اس کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کروں گا جب یہ ذہنیت پیدا ہو جائے جب اس قسم کی