خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 247
خطبات ناصر جلد دوم ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۱۶ راگست ۱۹۶۸ء رہیں جو مقاصد عالیہ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے پس اے انسان ! اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث بنے اور اگر تو چاہتا ہے کہ خدا کے فرشتے تیرے لئے بھی دعاؤں میں مشغول ہو جائیں تو اپنی زندگی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد عالیہ کے ساتھ ہم آہنگ کر دے اور ایک جیسا بنا دے پھر خدا کی رحمتوں کا بھی تو وارث ہو جائے گا اور فرشتے جوان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے ان کے پورا ہونے کے لئے دعاؤں میں لگے ہوئے ہیں ان کی دعاؤں کا بھی تو وارث بن جائے گا کیونکہ تیری اپنی زندگی ، تیری اپنی کوششیں اور تیری اپنی فکر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد کو کامیاب بنانے میں لگی ہوئی ہوگی اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث بنو گے اگر ایسا کرو گے تو دنیا بے شک تمہاری مخالفت کرتی رہے دنیا بے شک تمہیں مٹانے کی کوشش کرتی رہے دنیا بے شک تمہیں ہر قسم کا دکھ اور عذاب پہنچانے میں لگی رہے تم اس بات کا یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کی رحمت تمہیں اور صرف تمہیں ملے گی۔ایک تیسرا طریق اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سورۃ احزاب کی آیت ۳۷ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بنی نوع انسان کے متعلق روحانی اور اخلاقی فیصلہ کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے جو کام آپ کے سپر د کئے گئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ آپ انسانوں کے درمیان فیصلہ کریں اور جو خدا تعالیٰ کی رحمت کے وارث بننا چاہتے ہوں ان کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ ہو اس کو بشاشت قلبی کے ساتھ قبول کریں اور اس پر عمل کریں اسی طرح جو فیصلے ( یہ بات قضَی اللہ “ میں آجاتی ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کرتے ہوں ان کو قلبی بشاشت کے ساتھ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بناتا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کے دروازے کھلیں تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس گروہ میں خود کو شامل کرو جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہو کہ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ “ (الاحزاب : ۳۷) عمل پیرا ہیں اگر تم ایسا نہیں کرو گے بلکہ انکار اور عصیان کی راہوں کو اختیار کرو گے تو اس کے نتیجہ میں ضَلَّ ضَللا مبينا بہت بڑی گمراہی میں پڑ جاؤ گے