خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 231
خطبات ناصر جلد دوم ۲۳۱ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء چاہتے کہ روپیہ یہاں آئے اس لئے ہمارے اپنے ملک میں بھی حالات ایسے نہیں کہ روپیہ زیادہ مقدار میں باہر بھجوایا جا سکے ویسے اس سال اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے کہ گندم بڑی اچھی ہوگئی ہے لیکن جو غیر ملکی روپیہ ہم کماتے ہیں اور جس کو فارن ایکسچینج (Foreign Exchange) کہتے ہیں اس پر ملکی ضروریات کی وجہ سے بڑا بار رہتا ہے اس لئے ہمیں فارن ایکیھینچ کی بہت تھوڑی رقم مل سکتی ہے اور یہ رقم پیسے دے کر ملتی ہے یہ نہیں کہ گورنمنٹ عطیہ دیتی ہے بلکہ ہم لاکھ روپیہ دیتے ہیں اور وہ لاکھ روپیہ فارن ایکسچینج کی شکل میں ہمیں دے دیتے ہیں لیکن فارن ایکھینچ پر بھی اتنے دباؤ اور (Pressure) ہیں کہ وہاں سے ہمیں زیادہ روپیہ نہیں مل سکتا اس لئے جن ممالک سے غیر ملکوں میں روپیہ باہر جا سکتا ہے وہاں ہماری ریز رور قم رہنی چاہیے تا کہ اگر کسی جگہ غلبہ اسلام کے سامان پیدا ہوں تو یہ نہ ہو کہ ہم سے مطالبہ ہو کہ آدمی بھیجو، کتا بیں بھیجو، بدمذہب اور دہریہ اور عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے اسلام کی طرف مائل ہیں اور باتیں سن رہے ہیں اور حالات ایسے ہیں کہ اسلام یہاں پھیل جائے گا لیکن ہم انہیں کہیں کہ ہمارے پاس تو پیسہ نہیں اگر ایسا ہو تو یہ انتہائی محرومی اور تکلیف کا باعث اور ڈوب مرنے کا مقام ہو گا غرض ہمارا روپیہ ان ممالک میں ریز رور ہے گا اور اس وقت غیر ممالک میں روپیہ ریز رو رہنا جو بوقت ضرورت کام آئے بہت ضروری ہے کیونکہ دنیا کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں ایسے ممالک جو آج بظاہر بڑے امیر معلوم ہوتے ہیں اور ان کی کرنسی پر کوئی پابندی نہیں دیکھتے ہی دیکھتے ان میں ایک انقلاب آتا ہے اور اگلے دن کرنسی پر پابندیاں لگ جاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور فراست دی ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں ہماری اس دنیا میں اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا کر دے تو وہ اپنے بندوں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور زمانہ کے جو چیلنج ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں اور غلبہ اسلام کے لئے ہر ممکن تدبیر وہ کرتے رہیں۔یہ تو نہیں کہ پھولوں کی سیج پر ہم لیٹے رہیں اور پھر بھی ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں۔دنیا جس کو دکھ کہتی ہے مومن اسے دکھ نہیں سمجھتا لیکن دنیا جسے دکھ کہتی ہے،