خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 186 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 186

JAY خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء خطبات ناصر جلد دوم سکتا۔ہے۔اس کو بلا لیا جائے گا یا غصہ کا اظہار کر کے اس کو کہا جائے گا دوڑ جاؤ یہاں کیا کرنے آئے ہو تو جو غلط راہ اختیار کرتا ہے اس کے متعلق دو نوشکیں اس کی گرفت یا جزا سزا کے متعلق اللہ تعالیٰ اختیار کر۔کیونکہ اس سورۃ میں اس نے اپنی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بیان فرمائی ہے کہ مالک کی حیثیت سے وہ معاملہ کرتا ہے انسان سے تو ان کا تو یہ کوئی وعدہ نہیں اللہ تعالیٰ کا۔بلکہ وعید بڑا ہے کہ غلط راہوں کو اختیار کرو گے تو عام قانون سزا کا ہے استثنائی طور پر معافی کا ہے ٹھیک ہے مالک ہے معاف کر دے لیکن اس نے ہمیں وعید یہ دیا ہے۔ہمیں کہا یہ ہے کہ اگر تم غلط راہوں کو اختیار کرو گے تو غلط نتائج نکلیں گے۔دنیا میں بھی یہی قانون ہے۔ایک شخص بدکاری کرتا ہے آتشک اور سوزاک میں مبتلا ہو جاتا ہے ایک شخص اخلاقی طور پر گھر میں عادتا اعتراض کرتا رہتا ہے نظام سلسلہ پر اعتراض، مقامی امیر پر اعتراض، خلیفہ وقت پر اعتراض۔جو منہ میں آئے بولتا ہے۔اس کی اولا داس کے لئے عذاب بن جاتی ہے درجنوں مثالیں ہماری اپنی جماعت میں ہیں کہ جن لوگوں کو یہ گندی عادت تھی اور اپنی زبان پر ان کو کوئی کنٹرول نہیں تھا ان کی اولادیں ان کی تباہی کا ، ان کے عذاب کا ، ان کے دکھ کا ، ان کی تکلیف کا ، ان کی گھبراہٹ کا باعث بنیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ گرفت کر لیتا ہے اور کبھی ایسے شخص کو معاف بھی کر دیتا ہے اس کی اولاد میں سے ایک بڑا اچھا مخلص مومن بندہ پیدا ہو جاتا ہے اس کی دعاؤں سے باپ بھی ممکن ہے معاف کر دیا جائے بہر حال یہ خدا تعالیٰ کی جہاں تک جزا اور سزا کا تعلق ہے اس کے اوپر ہم کوئی حتمی قانون حاوی نہیں کر سکتے کیونکہ اس کا قانون اپنے امر پر بھی اور ہمارے ارادوں پر بھی حاوی ہے۔لیکن وعدہ کوئی نہیں وعدہ یہی ہے وعید کے رنگ میں یعنی انذار کے رنگ میں، ڈرانے کے رنگ میں خبردار کرنے کے رنگ میں، سمجھانے کے رنگ میں، بدیوں اور برائیوں سے روکنے کے رنگ میں کہ اگر غلط رستہ اختیار کرو گے تو غلط نتائج نکلیں گے غلط اس معنی میں کہ جس کو تم خود صحیح نہیں سمجھو گے تمہارے دکھ کا موجب ہوں گے۔کوئی شخص اپنے دکھ کو اچھی چیز نہیں کہ سکتا جو شخص بیماری میں تڑپ رہا ہو اس کی طبیعت میں گھبراہٹ ہو اس وقت بے چینی ہو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ بیماری جو ہے بڑی اچھی چیز ہے۔جان نکل رہی ہوتی ہے بعض لوگ ایسے کرب میں ہوتے ہیں کہ وہ دعا کر