خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 174

خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۴ خطبہ جمعہ ۱۴؍جون ۱۹۶۸ء وجہ یہ ہے کہ یہ مادی دنیا ہے، اسباب کی دنیا ہے خدا تعالیٰ کے جلوے اپنی پوری شان کے ساتھ اس مادی دنیا میں نظر ہی نہیں آسکتے۔وہ جلوے عدم کو چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک صفت یہاں ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بیان کی۔یہ صفت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس عالمین کو رَبُّ الْعَلَمِينَ نے پیدا کیا تھا اس عالمین کو وہ اللہ جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور قدرتوں کا مالک ہے ایک وقت میں فنا کر دے اور سارے حجاب دور ہو جائیں اور اس کے عظیم جلوے انسان پر ظاہر ہونے لگیں اور اس کو نظر بھی آنے لگیں کوئی حجاب بیچ میں نہ رہے اس کے قہر کے جلوے شقاوت عظمیٰ رکھنے والے دیکھیں اور اس کے پیار کے جلوے اور اس کے جمال کے جلوے اور اس کے حُسن اور احسان کے جلوے وہ دیکھیں جو سعادت عظمیٰ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے یہ جلوے ہر قسم کے حجاب سے باہر نکل کے اس کے سامنے آئیں۔اس غرض کے لئے اس نے جز اسزا کا دن رکھا ہے اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اس دنیا کی بھول اور خطا اور نسیان اور غفلت اور گناہ اور عصیان اور خدا سے ڈوری کی برداشت انسان کو ایک سکینڈ کے لئے بھی نہ کرنا چاہیے۔اعمال کا نتیجہ اس دن نکلے گا اور وہ نتیجہ کوئی معمولی نہیں وہ نتیجہ اس دن نکلے گا جو جزا سزا کا دن ہے اور تمہارا رب جو رحمان اور رحیم ہے وہ مالک کی حیثیت سے تمہارے سامنے جلوہ گر ہوگا چونکہ وہ مالک کی حیثیت سے جلوہ گر ہو گا تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکے گا کہ اے ہمارے رب ! ہمارا تجھ پر یہ حق ہے ہمیں دے کیونکہ جو مالک ہے ہر ایک چیز کا اس پر کسی کا کوئی حق نہیں ہو سکتا عقل بھی اس کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ کر سکتی ہے اور چونکہ وہ مالک ہے اس لئے اُمید بھی دلا دی کہ اگر وہ چاہے تو جتنا چاہے دے دے وہ جتنے گناہ چاہے معاف کر دے، وہ جتنا فضل کرنا چاہے فضل کرے لیکن ایک دولت مند امیر جس کے کارخانے میں ایک ہزار مزدور کام کر رہا ہے یہ مزدور اس سے ڈرتے نہیں کیونکہ کچھ حقوق ہیں ان کے کچھ ایسے حقوق ہیں جو مالک نے تسلیم کئے ہیں کچھ ایسے حقوق ہیں جو دنیا تسلیم کرتی ہے اور حق دلواتی ہے کچھ ایسے حقوق ہیں جو حکومتیں دلواتی ہیں کچھ ایسے حقوق ہیں جو حکومتوں کا تختہ اُلٹ کے حاصل کر لئے جاتے ہیں یہ دنیا ایسی ہے لیکن و ہاں تو اس طرح نہیں ہو گا مالک کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا کوئی شخص کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا