خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 165
خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۵ خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۶۸ء رکھتے اور اس کی صفت رحمانیت پر کامل یقین رکھتے ہیں تو یقیناً رحمان خدا کی صفت کا دروازہ ہمارے لئے کھولا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی اس قسم کی رحمتوں کے سامان ہمارے لئے پیدا کئے جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت صرف پہلے زمانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہماری زندگی میں بھی اس کے جلوے نظر آتے ہیں میں نے بعض مثالیں دی ہیں لیکن ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اپنی طرف سے ہر تد بیر کر چکا اور ناکام رہا اس کو اس وقت خدائے رحمن کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور جو متوجہ ہوتے ہیں ان کے لئے یہ دروازہ کھولا جاتا ہے اور صفت رحمانیت کے وہ جلوے دیکھتے ہیں۔پس زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کے بغیر ہم توحید کامل پر قائم نہیں ہو سکتے اور زندہ خدا کی زندہ قدرتیں جن صفات سے ظاہر ہوتی ہیں ان میں سے دوصفات رحیمیت اور رحمانیت کی صفات ہیں۔رحیمیت کی صفت ہم پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سامانوں کو بہترین رنگ میں ہم استعمال کریں اور ساتھ ہی روحانی تدبیر سے بھی کام لیں اور اس طرح اپنی تدبیر کو کمال تک پہنچائیں کیونکہ اگر تد بیرا اپنے کمال کو نہ پہنچے تو بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے پس تدبیر کو انتہا تک پہنچانا ضروری ہے عقلاً بھی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی روشنی میں بھی جب انسان اس دنیا میں تدبیر کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں صفت رحیمیت کا وہ جلوہ دیکھتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے دنیا دار انسان جو خدا پر یقین نہیں رکھتا وہ رحیمیت کا جلوہ تو دیکھتا ہے مگر وہ بد قسمت اسے پہچانتا نہیں وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے زور سے کامیاب ہوا وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس کی طرح ہی تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچایا مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے مثلاً سائنس دان ہیں ایک ایک مسئلہ کے حل کے لئے بعض دفعہ دو دوسو سا ئنسدان تحقیق میں لگے ہوتے ہیں اور صرف ایک یا دو اس مسئلے کو حل کر پاتے ہیں اور باقی نا کام رہ جاتے ہیں حالانکہ تدبیر بظاہر ایک جیسی تھی اب جو دو کامیاب ہوئے یا ایک کامیاب ہوا تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی تدبیر سے کامیاب ہوا اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ