خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 160
خطبات ناصر جلد دوم 17۔خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۶۸ء مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہماری بقا کے لئے ہماری پیدائش سے بھی پہلے اور ہمارے کسی عمل کے نتیجہ کے طور پر نہیں بلکہ محض رحمانیت کی صفت کے اظہار کے لئے ہوا کو پیدا کیا تا کہ ہم سانس لیں اور زندہ رہیں ہماری غذائی احتیاجوں اور ہمارے جسمانی نظام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے سورج بنا دیا اور اس کا ایک خاص تعلق زمین سے قائم کیا۔سورج اور زمین کا باہمی تعلق دن اور رات کو پیدا کرتا ہے اور ہمارے آرام اور ہمارے کام کے سامان اس کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اگر بارہ مہینے رات ہی رہتی تو انسان اس قسم کی دنیوی ترقیات حاصل نہ کر سکتا جو وہ کر چکا ہے کر رہا ہے اور کرتا چلا جائے گا اس لئے بھی کہ روشنی کے ذریعہ بہت سے کام کئے جاتے ہیں ہماری ترقی میں روشنی یا سورج کی کرنوں کا بڑا دخل ہے مثلاً سائنس کی ترقی میں اس طرح کہ سورج کی کرنوں کے اثر کے نتیجہ میں ہماری زمین میں بہت سی خاصیتیں پیدا ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں زراعت کا علم ترقی کرتا ہے اور زراعتی علم نے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی ترقی کرتارہے گا اور پھر اگر سردی زیادہ ہو جاتی ہمیشہ اندھیرا رہنے کے باعث تو انسان کے لئے کام کرنا بڑا مشکل ہو جاتا اگر بارہ مہینے سورج ہی نکلا رہتا تو زمین جل کے کوئلہ ہو جاتی اس معنی میں کہ اس کی بہت سی خصوصیات مرجاتیں اور انسان اس سے فائدہ نہ اٹھاتا اور آرام کرنا بھی اس کے لئے مشکل ہو جاتا اور یہ زمین انسانی رہائش کے قابل نہ رہتی اور بے آباد ہوتی پس بے شمار ایسی چیزیں اور ایسی خاصیتیں اور ایسے ستارے جو ہم سے دور ہیں اور ایسے سامان جو اس دنیا میں ہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے تا کہ انسان جسمانی اور روحانی لحاظ سے ترقی کر سکے کیونکہ دن کے بعد جو رات آتی ہے وہ قرب الہی ، مقام محمود کے حصول کے سامان بھی پیدا کرتی ہے اگر دن ہی ہوتا بارہ مہینے کا تو انسان کے لئے روحانی طور پر مقام محمود تک پہنچنا مشکل ہو جا تا بہر حال یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ہماری پیدائش سے پہلے نسل انسانی کی پیدائش سے بھی پہلے رحمن خدا نے اپنے کامل علم اور کامل رحمت کے نتیجہ میں انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔ایک دوسری قسم کے رحمانیت کے جلوے ہیں جو روز بروز ، لحظہ بہ لحظہ ، گھڑی یہ گھڑی ہمیں نظر آتے ہیں ان کی طرف میں بعد میں جاؤں گا پہلے میں رحیمیت کو لیتا ہوں یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا