خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 116

خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۶ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء اس سے ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زبان کو بے لگام نہیں چھوڑا۔بہت سی پابندیاں اور حد بندیاں اس نے زبان پر قائم کی ہیں اور اظہارِ رائے زبان سے ہو، یا تحریر سے، اشارہ سے ہو یا بلیغ خاموشی سے، یہ تمام اظہار با اخلاق آزادی کی قیود میں بندھے ہوئے ہیں تو بنیادی ہدایت زبان کے متعلق یہ ہے کہ جو بات کہو ا حسن کہو اگر اللہ کے بندوں میں شامل ہونا چاہتے ہو۔اگر شیطان کے بندے بننا چاہتے ہو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔قولِ احسن کے اصول پر کار بند ہوئے بغیر کوئی شخص خدا کے عباد میں شامل نہیں ہو سکتا۔اظہار کا یا بیان کا بڑا تعلق الہی سلسلہ میں تبلیغ اور اشاعت حق ، اشاعتِ اسلام سے ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ قریباً تمام دنیا میں پھیل چکی ہے۔سو جہاں بھی ہمارے احمدی بستے ہیں انہیں چاہیے کہ اشاعت اسلام اور تبلیغ کے سلسلہ میں قرآن کریم نے جو ہدایات دی ہیں جن میں سے بعض بنیادی باتوں کا تعلق ان آیات سے ہے جن پر میں نے گذشتہ خطبہ دیا تھا ، ان کو اپنے سامنے رکھیں اور کبھی بھی نفس کے جوش سے اپنے رب کو ناراض نہ کریں ان آیات میں جو گذشتہ جمعہ میں نے پڑھیں اور جن کے متعلق میں نے خطبہ دیا تھا اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل باتیں بیان کی ہیں۔(۱) یہ کہ دعوت إِلَى الْحَقِّ ( اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے ) کا کام سپر د کرتے ہوئے قرآن کریم نے جو ہدایت انسانوں کے لئے دی ہے وہ یہ ہے کہ اشاعت حق کا کام ان علمی اور عقلی دلائل کے ساتھ کیا جائے جو قرآن کریم میں بکثرت پائے جاتے ہیں یا وہ علمی دلائل جو قرآن کریم کے علمی اور عقلی دلائل کی تائید میں دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بعض دلائل کو تو اپنی حکمت کا ملہ سے صدیوں محفوظ رکھا اور آج انہیں اس لئے ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور آپ کے بیان کی سچائی پر وہ دلیل ٹھہریں۔(۲) دوسری ہدایت یہ دی کہ قرآن کریم میں صرف علمی اور عقلی دلائل ہی نہیں بلکہ بہت سے روحانی اسرار اور روحانی انوار بھی پائے جاتے ہیں۔تو دوسروں کے سامنے قرآن کریم کے روحانی اسرار و انوار پیش کرنے چاہئیں اور میں نے بتایا تھا کہ اس وقت بہترین تفسیر جو اس زمانہ