خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 112
خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۲ خطبه جمعه ۱۲ ۱۷ پریل ۱۹۶۸ء جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سنے یا پڑھنے سے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اَحْسَنُ کیا ہے کیا اس احسن کی تلاش ہم نے خود کرنی ہے یا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی طرف راہ نمائی فرمائی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِینَ که قول کے لحاظ سے احسن وہ ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔پس ہر وہ دعوت جو صحیح طریق پر دی گئی ہو اور جس کا مقصود یہ ہو کہ خدائے واحد و یگانہ کو دنیا پہچاننے لگے وہ احسن قول ہے وہ قول جو شرک کی طرف لے جاتا ہے، وہ قول جو بدعت کی طرف لے جاتا ہے، وہ قول جو دہریت کی طرف لے جاتا ہے، وہ قول جو فساد کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو باہمی جھگڑوں کی طرف لے جاتا ہے، وہ قولِ احسن نہیں ، احسن قول وہی ہے جو اللہ کی طرف لے جانے والا ہے اور چونکہ صرف زبان کا دنیا پر اثر نہیں ہوتا جب تک عملی نمونہ ساتھ نہ ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ عَمِلَ صَالِحًا۔پس تم پر فرض ہے کہ تم اپنے عملی نمونہ سے دنیا پر یہ ثابت کرو کہ تم واقعہ میں خدا کے مقرب اور اس کی طرف بلانے والے ہو تمہیں اپنا فائدہ مطلوب نہیں ہے۔ہم تمہاری فلاح اور تمہاری نجات اس میں دیکھتے ہیں کہ تم اپنے رب کو پہچاننے لگو اور اسی کی طرف ہم دعوت دیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ ہم واقعہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، اپنے فائدہ کی تلاش میں نہیں ہیں، یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں یہ نہیں کہ ہم تمہیں کہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے لئے مالی قربانیاں دو لیکن ہم خود مالی قربانیوں میں پیچھے ہوں۔ہم تمہیں کہیں کہ خدا کے لئے اپنے نفسوں کی قربانی دو اور خود ہمارا یہ حال ہو کہ ذراسی بات پر ہمارے جذبات بھڑک اُٹھیں ، نہیں بلکہ احسن قول اس کا ہے جو اپنی زبان سے بھی اللہ کی طرف بلانے والا ہے اور اپنے افعال سے بھی اللہ کی طرف بلانے والا ہے۔وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور اس کی روح کی بھی یہی آواز ہے کہ میں مسلم ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم بھی مسلمان بن جاؤ۔میں تم سے کسی دنیوی فائدہ کا طالب نہیں میں نے تو اپنا سب کچھ ہی اپنے رب کے قدموں پر قربان کر دیا ہے۔میری تو اپنی کوئی خواہش باقی نہیں رہی، میرا تو اپنا کوئی جذ بہ باقی نہیں رہا، میرا تو اپنا کوئی مال باقی نہیں رہا جو تمہاری نظر میں میری اولا د یا رشتہ دار ہیں ہر آن میری روح کی یہ آواز ہے کہ جہاں