خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1025
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۲۵ خطبہ جمعہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء ہو جاتا ہے کہ الحمد لله یعنی سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں کوئی اور وجود یا ہستی یا شے یا کترہ یا انسان یا درخت یا کوئی اور شکل جس میں کوئی محسن پایا جاتا ہے ان کے اندر حقیقتا کوئی حسن نہیں پایا جا تا بلکہ یہ حسن اللہ تعالیٰ کا حسن ہے یہ ایک جلوہ ہے خدا کا جو اس شکل میں ہمارے سامنے آ گیا۔دوسری وجہ تعریف کی احسان بنتا ہے آپ نے اپنی زندگی میں بیسیوں یا شاید سینکڑوں دفعہ سنا ہوگا کہ بڑا اچھا ہے فلاں شخص وہ مخلوق کا بڑا ہمدرد ہے یا بڑا اچھا ہے فلاں شخص اور پھر انسان اس کی بڑی لمبی چوڑی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے فلاں موقع پر مجھ پر احسان کیا تھا یا بڑا اچھا ہے فلاں شخص۔اس کا اپنی بیوی کے ساتھ بڑا اچھا سلوک ہے یا بڑا اچھا ہے فلاں شخص کیونکہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرتا ہے اور انہیں اسلام کا خادم بنانے کی کوشش کر رہا ہے یا بڑا اچھا ہے یہ درخت کیونکہ اس کے پھل بڑے میٹھے ہیں یا بڑا اچھا ہے زمینی ذرات کا یہ مجموعہ۔دیکھو یہ کس طرح چمکتا ہے کتنا قیمتی ہیرا بن گیا ہے اور اس سے ہم ہزار قسم کے فائدے اٹھاتے ہیں آگے یہ ہیرا خود ایک محسن ہے بلکہ ہر چیز دوسرے پر احسان کرنے والی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کسی چیز کولغو پیدا نہیں کیا اس لئے ہر مخلوق محسن کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے لیکن اس میں احسان کی قوت اس کے کسی ذاتی ہنر کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا کوئی جلوہ وہ شکل اختیار کر گیا۔میٹھے پھل دینے والا آم کا درخت یا وٹامن (Vitamin) سے بھرا ہوا کھٹے آم کا درخت (اس کے اپنے فائدے ہیں ) اپنی جگہ پر احسان پر احسان کر رہا ہے ہر چیز انسان پر یا تو بلا واسطہ احسان کر رہی ہے یا بالواسطہ احسان کر رہی ہے مثلاً کوسن یا برسیم گھوڑے پر احسان کر رہا ہے کیونکہ یہ گھوڑے کی بڑی اچھی خوراک ہے اور جس وقت گھوڑا مضبوط ہو جاتا ہے تو پھر وہ انسان پر احسان کر رہا ہے کہ وہ اس کی سواری کے کام آتا ہے اور اس کی زینت بنتا ہے یہ ساری احسان کی ہی شکل ہے جو اس کے سامنے آئی لیکن حقیقتا نہ گھوڑے میں احسان کی طاقت ہے نہ ٹوسن یا برسیم میں احسان کی طاقت ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی کسی صفت کا جلوہ ہے جو ان کے اندر ہمیں نظر آتا ہے اگر اللہ تعالیٰ یہ نہ چاہتا کہ کوئی ایسا چارہ ہو جو گھوڑے کو صحت مند اور خوبصورت بنائے تو کوئی چارہ دنیا میں ایسا پیدا نہ ہوتا۔اگر اللہ یہی چاہتا ہے کہ گھوڑے کو لاغر ہی