خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1020
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء شریک ہوتا ہے غرض وہ ہر قسم کے حقوق اللہ کو بھی اور حقوق العباد کو بھی ادا کرتا ہے۔پھر اگلا رمضان آجاتا ہے اور وہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی عبادات بجالانے کے لئے شَدَّ مِثْزَرَہ کا مصداق بن جاتا ہے۔پوری طرح مستعد اور تیار ہو جاتا ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں بہت ساری عبادتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں وہ اپنی طرف سے رمضان کی عبادتیں بجالاتے لاتے رمضان کے آخری عشرہ میں پہنچ جاتا ہے تو اس کا دل کہتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے سارے اعمال خدا کے لئے کئے لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے اعمال قبول بھی ہوں گے یا نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے اس کے اعمال کی کسی خرابی یا بیماری یا کسی اندرونی کیڑے کی وجہ سے اس کے وہ سارے اعمال جنہیں وہ سارے سال بجالا تا رہا ہے اور جنہیں ماہِ رمضان میں اور بھی زیادہ تندہی اور مستعدی کے ساتھ بجالا یا۔وہ عنداللہ مقبول نہ ہوں چنانچہ پھر وہ سالِ نو کی ایک نئی لیلتہ القدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں تعہد کے ساتھ خود بھی جاگتا اور اپنے اہل کو بھی جگاتا ہے اور فدائیت کے ساتھ ان راتوں کو زندہ رکھتا ہے پھر اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اسے اس قسم کی دونوں قدرتوں یا قدرت کے دونوں پہلوؤں کے حسین جلوے دکھائی دیئے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندے! میں تجھے یہاں طاقت دینے کے لحاظ سے کھڑا نہیں رہنے دوں گا بلکہ میں تجھے پہلے سے بڑھ کر نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا کروں گا لیکن میں نے وہ اختیار تجھ سے نہیں چھینا اس لئے شیطان سے ہوشیار رہ کر اپنا اگلا سال گزارنا پھر اسی طرح انسان کی زندگی کے سارے سال گذرتے رہتے ہیں۔پس اصل بات یہی ہے کہ وہ گھڑی خواہ وہ ایک سیکنڈ کی ہو یا ایک گھنٹے کی یا ایک رات کی ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ بشارت ملتی ہے کہ میں نے تیری نیکیوں کو قبول کیا اور میں نے پہلے سے بھی زیادہ نیکیاں کرنے کی تجھے تو فیق عطا کی۔ایسی گھڑی ساری عمر سے بڑی ہے خواہ وہ عمر تر اسی سال چار ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہزار مہینوں سے زیادہ بزرگی والی ، زیادہ عزت والی، زیادہ فائدہ والی اور زیادہ خیر والی ہے۔تر اسی سال کی ایسی تدبیر جو قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ایسا مجاہدہ جورڈ کر دیا جاتا ہے ایسی دعائیں