خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1018 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1018

خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۱۸ خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء سے نیکی کے کام کرنے کی قوت اور طاقت عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایسے شخص کو نور سے فیض حاصل کرنے اور اس نور سے اسے اپنے دل اور اپنے دماغ اور اپنی روح کو منور کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔قدر کے معنے میں قوت اور طاقت کا دینا بھی شامل ہے اور ایک قدر کے معنی میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طاقت سے وہ چیز پیدا کر دیتا ہے جو مناسب حال ہو جس وقت بندہ اعمالِ صالحہ بجالا تا یعنی اسے ایسے اعمال کی توفیق ملتی ہے جو عند اللہ مقبول ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی اور ایثار اور اخلاص کو پیش کرتا ہے اور اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ایک موت وار د کر لیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندے کی اس نیک نیتی اور اخلاص اور فدائیت اور ایثار کے مناسب حال اس کے لئے سامان پیدا کر دیتا ہے۔قدر یعنی قوت کے معنوں کا یہ دوسرا پہلو ہے۔پس ایک تو ایسا شخص جسے رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر مل جائے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یہ طاقت اور قوت حاصل کرتا ہے کہ وہ آئندہ سارا سال نیکیوں پر ثبات قدم دکھاتا رہے اور استقامت سے کام لیتا ر ہے تا کہ اس کی زندگی میں نیکیوں کے بجالانے کا ایک ایسا تسلسل قائم ہو جائے جو بالآخر خاتمہ بالخیر پر منتج ہو۔دوسرے یہ کہ ایسا شخص جسے رمضان میں لیلتہ القدر نصیب ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت بھی پاتا ہے کہ اس نے اس سے قبل جو نیک کام کئے ہیں خدا تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے قبول کر لیا اور یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ انسان اپنی تد بیر یا اپنی کوشش یا اپنے مجاہدہ پر بھروسہ نہیں کر سکتا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس نے اپنی طرف سے اپنے رب کی خاطر جو دن رات تکلیف اُٹھائی۔دنیوی نقطۂ نگاہ سے اپنے آرام کو چھوڑا، خواہشات نفسانی کو دھتکار دیا، نفس امارہ کو لگامیں دیں، شیطان سے دور رہنے کی کوشش کی اور اپنے رب کے قریب ہونے کی ہرممکن کوشش کی اور ہر قسم کے مجاہدے کئے لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی تدبیر کسی ایسے کیڑے سے پاک تھی یا نہیں جو کیڑا کہ روحانی میدانوں میں تدابیر کے اندر گھس کر تد بیروں کو ناکام بنا دیتا اور لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے پس کسی آدمی کے بس کی یہ بات نہیں وہ جانتا ہی نہیں کیونکہ اس کا علم ناقص ہے