خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 926 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 926

خطبات ناصر جلد اول ۹۲۶ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۶۷ء سلسلہ کو دعا کی تحریک کردیں اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو ہمیشہ اور ہمیں کوئی تکلیف نہ دکھائے“۔( یہ خط پچھلے ماہ کی ۲۹ تاریخ کا لکھا ہوا ہے ) اَلا تَتَّخِذُوا مِن دُونِي وَكِيلاً (بنی اسراءیل : ۳) اللہ تعالیٰ ہی ہمارا کارساز پروردگار ہمارا محافظ اور ہمیں اپنی امان میں رکھنے والا ہے تدبیر تو کی ہی جاتی ہے صدقہ میں نے دے دیا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا۔جماعت خاص طور پر دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور جماعت کو بھی ہر شر اور ہر بلا سے محفوظ رکھے۔حضرت محتر مہ پھوپھی جان کا ایک نواسہ بھی جوعزیزم مرزانیم احمد صاحب کا چھوٹا بچہ ہے چند دن سے بیمار ہے کوئی انفیکشن ایسا پیدا ہوا ہے کہ ابھی تک آرام نہیں آرہا کسی دوائی کا اثر نہیں ہو رہا اس عزیز بچہ کو دو چار روز سے ۱۰۵ تک بخار ہو جاتا ہے تمام دوائیوں کے باوجود۔دوست اس عزیز کے لئے بھی دعا کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کا ایک چھوٹا سا عزیز ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو بھی شفادے صحت دے اور خادم دین بنائے۔اب میں دوستوں کو فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا اعلان ۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ میں ہوا تھا اس جلسہ کی ایک تقریر میں میں نے یہ کہا تھا کہ اس لئے میں دوستوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی پہلی تمام مالی قربانیوں پر قائم رہتے ہوئے اور ان میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر بشاشت قلبی کے ساتھ محض رضائے الہی کی خاطر اس فنڈ میں بھی دل کھول کر حصہ لیں اور دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی اس فنڈ کو با برکت کرے اس وقت میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ۲۵ لاکھ روپیہ سے کہیں زیادہ رقم جمع ہو جائے گی۔شروع میں ابتدائی انتظامات پر کافی وقت خرچ ہوا اس کے نتیجہ میں میں نے بعد میں کسی موقعہ پر (غالباً گذشتہ مجلس مشاورت کے موقعہ پر ) یہ اعلان کیا تھا کر فضل عمر فاؤنڈیشن کا سال جون کے آخر میں ختم ہوگا اور یکم جولائی سے نیا سال شروع ہوگا۔پس اس سال کی یکم جولائی سے فضل عمر فاؤنڈیشن کا دوسرا سال شروع ہو چکا ہے۔جون کے آخر تک عملاً اور انتظاماً پہلا سال ہی جاری رہا تھا۔اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ اس نے جو خواہش