خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 718
خطبات ناصر جلد اوّل ZIA خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء اس قرآن کریم کو ہم نے اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے سامان مہیا کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے جس طرح چاہا اس نے حفاظت کی اور کرتا چلا آ رہا ہے۔جب کثرت کے ساتھ کا غذ پر قرآن کریم لکھا جا کر اس کی اشاعت کے ذریعہ اس کی حفاظت نہیں ہوسکتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے لاکھوں ذہنوں کو اس بات کے لئے تیار بھی کیا اور اس کی طاقت بھی دی کہ وہ قرآن کریم کو حفظ کر لیں اور ان میں سے ہزاروں ایسے بھی پیدا ہوئے جن کا حافظہ اتنا اچھا تھا کہ وہ زیر وزبر کی غلطی بھی کبھی نہیں کرتے تھے لیکن سارے مل کے تو ایسا حافظہ رکھنے والے تھے کہ اگر کوئی غلطی کر جا تا تھا تو دوسرا فوراً اس کی تصحیح کرنے والا بھی موجود ہوتا تھا یعنی بحیثیت مجموعی حافظ قرآن غلطی نہیں کر سکتے تھے۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ حفاظ کی یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت پیدا ہوئی تھی جب قرآن کریم کاغذ کے اوپر شائع ہونا شروع ہو گیا تو حفاظ کی تعداد کم ہونی شروع ہوگئی اور اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ وہ ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہی پیدا کردہ تھا۔انسانی تدبیر کا اس میں دخل نہ تھا معانی کے لحاظ سے ہر صدی میں اللہ تعالیٰ نے ایسے بزرگ اولیاء پیدا کئے صدی کے شروع میں بھی صدی کے وسط میں بھی اور صدی کے آخر میں بھی کہ جو خدا تعالیٰ کی توفیق سے خدا تعالیٰ کا اس قدر قرب حاصل کرنے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو علم قرآن سکھا تا تھا خود ان کا معلم تھا اور اپنے وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے اور اپنے وقت کے مسائل کو وہ حل کرنے والے اور اپنے وقت کی الجھنوں کو وہ سلجھانے والے تھے۔پھر اب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی زبر دست تحریک دنیا میں جاری کی ہے تمام اکناف عالم میں اسلام کو غالب کرنے کی اور اسلام کے نور کو پھیلانے کی اور ہمیں اس نے محض اپنے فضل سے یہ توفیق عطا کی ہے کہ ہم آپ کی جماعت میں شامل ہوں اور ہمارے لئے یہ موقع مہیا کیا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو وہ قربانیاں دے کر جو خدا تعالیٰ ہم سے لینا چاہتا ہے ہم اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں اور خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اس کی رضا کو حاصل کرنے والا بنے۔تو لفظی حفاظت بھی اور معنوی حفاظت بھی قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے کی ایسے حالات میں۔