خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 671
خطبات ناصر جلد اول ۶۷۱ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء میں نے بتایا تھا کہ ھدایة کے چار معنی لغت میں بیان ہوئے ہیں۔پہلے معنی کے متعلق جو خطبہ چھپا ہے اس میں کچھ تھوڑ اسا ابہام ہے۔اس کی میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ھدایة کے پہلے معنی یہ ہیں کہ عقل اور فراست کو جس راہنمائی کی ضرورت ہے اسے بھی ھدایة کہتے ہیں۔یعنی عقل اور فراست میں اور علوم کے حصول میں اور اس کی تحقیق میں بھی انسان میں جو طاقتیں ودیعت کی گئی ہیں محض وہ کافی نہیں بلکہ ان کے لئے بھی آسمان سے کسی ہدایت کی ضرورت ہے۔تو یہ قدر مشترک ہے تمام انسانوں میں، اس کا کسی مذہب کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔اس قدر مشترک کی راہنمائی بھی قرآن کہتا ہے کہ میں کرتا ہوں اور عقل تو خود اندھی ہے اگر نیر الہام اس کے ساتھ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتانے کے لئے کہ جسمانی قابلیتیں اور روحانی استعدادیں کافی نہیں ہوتیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو کر آسمان سے اس کی ہدایت کا سامان پیدا نہ کیا جائے۔بہت سی مثالیں قرآن کریم میں دی ہیں مثلاً ایک مثال یہ دی ہے کہ شہد کی مکھی کو ہم الہام کرتے ہیں اور قرآن کریم کا محض یہ ایک دعوئی ہی نہیں بلکہ الہی تصرف کے ماتحت انسانی تحقیق نے نہایت لطیف رنگ میں اور بڑی شان کے ساتھ قرآن کریم کے اس دعوی کو ثابت کیا ہے۔چنانچہ شہد کی مکھی کے متعلق جو نئی تحقیق ہوئی ہے اس میں ایک یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان مکھیوں کی ملکہ (Queen) جب انڈے دے رہی ہو تو انڈا دیتے وقت اسے یہ الہام ہوتا ہے کہ اس انڈے میں نر بچہ پیدا ہوگا یا مادہ بچی ہوگی۔چھتے میں مختلف جگہیں مقرر ہیں۔ایک حصہ میں ماں وہ انڈے رکھتی ہے جن میں سے نر بچے پیدا ہونے ہوں اور چھتے کے ایک دوسرے حصہ میں ان انڈوں کو رکھتی ہے جن میں سے مادہ بچے پیدا ہونے ہوں تو سینکڑوں ہزاروں انڈے ایک مکھی جسے ملکہ کہتے ہیں دیتی ہے اور ہر موقعہ پر جب وہ انڈا دے رہی ہو اس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں سے نر نکلے گا یا مادہ نکلے گی۔تو اس قسم کی بہت سی مثالوں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سمجھایا ہے کہ محض اپنی طاقتوں اور قوتوں اور محض اپنی عقل اور فراست اور محض اپنے علم اور محض اپنی تحقیق پر بھروسہ نہ کرنا جب تک آسمان سے تمہارے لئے ہدایت نازل نہ ہو تم کسی میدان میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے اور