خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 670 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 670

خطبات ناصر جلد اول ۶۷۰ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء پس قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ اسی غرض کے لئے قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا چنانچہ سورہ تو بہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ - (التوبة : ٣٣) ضمناً میں یہ بتادوں کہ اس آیت میں عَلَی الدِّینِ محل تک کا جو ٹکڑا ہے قرآن کریم میں تین مختلف جگہوں پر آیا ہے اور ہر سہ جگہ علیحدہ علیحدہ معانی اور مضمون کو بیان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ وہ خدا ہی ہے جو اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں کامل ہے اس نے اس رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور اس بعثت اور اس ظہور کی غرض یہ ہے لِيُظْهِرَة عَلَى الدِّینِ محلہ کہ تمام ادیان پر اس شریعت کی اور اس رسول کی برتری کو وہ ثابت کرے۔دین حق کی برتری ثابت ہوگی تو دین لانے والے کی برتری خود بخود ثابت ہو جائے گی۔یہاں لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّینِ حلہ کہا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام ادیان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا میں موجود تھے لیکن ان کے حلئے اور شکلیں بگڑ چکی تھیں۔جب بھی وہ اسلام کے مقابلہ پر آئیں گے شکست کھا ئیں گے۔قرآن کریم میں ایسے سامان اللہ تعالیٰ نے رکھ دیئے ہیں اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلامی شریعت کے بعد اگر کوئی جھوٹا دین قائم ہوگا تو اس کے اوپر بھی یہ غالب آجائے گا۔کیونکہ یہاں دین کے ساتھ سابقہ ادیان کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی مثلاً بہائی ہیں انہوں نے اپنا نیا دین بنا یا قرآن کریم کے مقابلہ میں۔قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ ایسے ادیان جو شریعت اسلامیہ کے بعد پیدا ہوں ان کا سر کچلنے کی بھی قرآن میں طاقت ہے۔کیونکہ یہ اس خدا کا کلام ہے جو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے جس کے علم میں ہیں وہ تمام باتیں جو آئندہ پ ظہور میں آنے والی ہیں۔تو دین اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کے مقابلہ میں نہ اگلے نہ پچھلے کوئی دین بھی ٹھہر نہیں سکتے وہ ہر ایک پر اپنے عقلی دلائل کے ساتھ اور اپنی روحانی صداقتوں اور ہدایتوں کے ساتھ اپنی آسمانی تائیدات اور نفرتوں کے ساتھ غالب آنے کی طاقت رکھتا ہے تو هُدًى تِلْعلمين تمام جہانوں کے لئے ہدایت ہونے کا دعویٰ صرف قرآن کریم نے کیا اور عملاً اسے ثابت بھی کیا ہے۔