خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 50

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ اس مہینے کا نام اسلام سے قبل ناتق تھا اسلام نے اس مہینے کو رمضان کا نام دیا ہے اور اس نام کے اندر اتنے وسیع معانی ہمیں نظر آتے ہیں کہ دل انہیں معلوم کر کے خدا تعالیٰ کے کمال قدرت کو دیکھ کر اس کی حمد کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔رمضان کا لفظ ر مض سے نکلا ہے اور جب ہم رمض کے مختلف معانی پر غور کرتے ہیں تو اس کے بہت سے معنی ایسے ہیں جن کا ماہ رمضان سے تعلق واضح ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب عربی میں اَرمَضَ الشَّیءَ کہا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اخرقۂ اسے جلا دیا۔اس لفظ میں سوزش کا تصور پایا جاتا ہے۔اگر کہا جائے اَرمَضَ الرّجُلَ تو اس کے معنی ہوتے ہیں اَوْ جَعَهُ اس کو دکھ پہنچایا۔تکلیف دی۔جب ہم ان دو معانی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ماہ مضان سے تعلق ہے۔اس طرح پر کہ وہ لوگ جو دین اسلام کے منکر ہیں یا اسلام میں تو داخل ہیں لیکن ان کے اندر روحانی کمزوری ہے۔وہ اس مہینہ کو محض دکھ اور درد ، بھوک اور پیاس اور بے خوابی کا مہینہ سمجھتے ہیں۔انہیں اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس کی برکات سے وہ کوئی حصہ لیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے جو نیک اور مومن بندے ہیں وہ اس مہینہ کی تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتے۔رَمَضَ النَّضَل کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ تیر کے پھل کو ، یا نیزے کے پھل کو یا چھری کے پھل کو پتھر پر رگڑ کر تیز کیا۔مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے مومن بندے اس مہینہ کے اندر اپنے سہام اللیل یعنی رات کے تیروں کو جو دعاؤں کی صورت میں آسمان کی طرف چلا رہے ہوتے ہیں تیز کرتے ہیں اس طرح ان تیروں کا اثر اس ماہ میں بڑھ جاتا ہے۔اور ان کی کاٹ تیز ہو جاتی ہے اور جن اغراض کے لئے ان تیروں کو استعمال کیا جاتا ہے وہ اغراض اس ماہ میں بطریق احسن حاصل ہو جاتی ہیں۔پھر لغت میں تَرَمَضَ الصَّيْدَ کا محاورہ بھی لکھا ہے۔یعنی جنونی شکاری شدت گرما کی پرواہ نہ کرتے ہوئے۔گرمی کے وقت اپنے شکار کی تلاش میں نکلا۔گو یا اللہ تعالیٰ کا مومن بندہ بھوک اور پیاس اور دوسری سختیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے مطلوب کی تلاش میں نکلتا ہے۔گرمی کی شدت یا تکلیف، یا بھوک اور پیاس، یا بے خوابی وغیرہ اس کے راستہ میں روک نہیں بن سکتیں۔