خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 486
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۸۶ خطبہ جمعہ ۱۱ار نومبر ۱۹۶۶ء بھجوائیں۔خود یہاں پاکستان کی قریباً ہر جماعت لکھ رہی ہے کہ ہمارے پاس واقف عارضی بھیجیں میں نے مٹی یا آٹے کے بت بنا کر تو نہیں بھیجنے جب تک جماعت اپنے بچے وقف نہ کرے گی جب تک وقف عارضی کے لئے لوگ اپنے نام پیش نہ کریں گے اس وقت تک دنیا کی اور جماعت کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی۔اس سلسلہ میں ہمیں کسی قسم کی ستی یا غفلت یا مردنی کا ثبوت نہیں دینا چاہیے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تین زندگیوں“ کے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہوا ہے۔ایک تو حقیقی اور ازلی ابدی زندگی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زندہ طاقتیں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی لیکن اس ازلی ابدی زندگی اور حیات سے دو اور زندگیاں نکلیں۔ایک قرآنی شریعت کی اور دوسری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں ان دو قائم رہنے والی زندگیوں کے ساتھ باندھ دیا ہے۔تو بنیا د تو خالص اور ہمیشہ ہمیش رہنے والی زندگی ہے اور دوسری دو زندگیاں اس سے جو پھوٹیں تو وہ بھی رہتی دنیا تک قائم ہیں۔قرآنی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض۔ان کے ساتھ بندھ جانے کے بعد مردہ ہونے کا کیا سوال ! اور ان کے ساتھ تعلق قائم ہو جانے کے بعد ایک دوسرے کو ستانے اور ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے یا کسی کو دکھ پہنچانے یا اپنے بھائی کو سکھ نہ پہنچانے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا ہر احمدی کو احمدی کے ساتھ محبت اور پیار کا سلوک کرنا چاہیے اور ہر دوسرے انسان کے ساتھ جو ابھی احمدی نہیں اس رنگ میں تعلق کا اظہار کرنا چاہیے کہ قرآن کریم کی صحیح تعلیم اس کے سامنے آجائے اور وہ قرآن کریم کی اس تعلیم پر ایمان لانے والے اور اس کی پیروی کرنے والے بن جائیں اور اس سے محروم رہ کر خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کی لعنت اور اس کے قہر کو جذب کرنے والے نہ ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ اس وقت دنیا میں ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ احمدیت کے طفیل اور اسلام کے صدقے اللہ تعالیٰ اپنے پیار کا اظہار کر رہا ہے مجھے بہت سی احمدی بہنوں کا علم ہے جنہیں اللہ تعالیٰ سچی خوا نہیں رویا اور کشوف دکھا رہا ہے جیسے کہ اُمت کے پہلے بزرگوں کو