خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 480

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۸۰ خطبہ جمعہ اا نومبر ۱۹۶۶ء ہے۔کونسا ہیرا ہے جو اس سے زیادہ قیمتی ہو؟ جس سے کہ آپ کی ضرورتیں بھی پوری ہوتی رہیں آپ کی اولاد کی بھی پوری ہوتی رہیں۔ان کی اولاد کی بھی پوری ہوتی رہیں۔آپ اسے خرچ بھی کرتے رہیں اور ختم بھی نہ ہو۔بلکہ آگے سے بھی بڑھتا چلا جائے۔دنیا کا کوئی ہیرا ایسا نہیں جسے استعمال بھی کیا جائے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ ہو جائے۔دنیا کا کوئی مال ایسا نہیں ( ہیرے جواہر ہوں یا کسی اور قسم کا مال ہو ) لیکن اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت ایسی ہے کہ ساری دنیا کے مال اس سے کم قیمتی ہیں کیونکہ دعا کے نتیجہ میں جو فضل جسمانی اور روحانی آسمانوں سے نازل ہوتے ہیں سچے دل کی دعا اور عاجزی و تضرع کے ساتھ وہ دنیا داروں کو دنیا کی تمام دولت خرچ کر کے بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔پس آپ کو اس کتاب کی قدر کرنی چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ہم نے احمدیت کی وجہ سے ساری دنیا کی ناراضگی مول لی ہے اور احمدیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن کریم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں اور اس کی برکات سے مستفیض ہوں ورنہ ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی کہ کہتے ہیں کہ ایک شخص گھر سے پیسے لے کر بازار جار ہا تھا۔کسی نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو وہ کہنے لگا۔بازار جا رہا ہوں تا وہاں جا کر گدھا خریدوں۔اس نے کہا انشاء اللہ کہو۔اس نے جواب دیا کہ پیسے میری جیب میں ہیں اور گدھا بازار میں موجود ہے انشاء اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں پیسے ادا کر کے گدھا خرید لوں گا۔جب وہ بازار پہنچا تو کسی نے اس کے پیسے چرا لئے۔بڑا حیران و پریشان ہوا۔اس وقت اسے خیال آیا کہ چونکہ میں نے اپنے دوست کے کہنے پر انشاء اللہ نہیں کہا تھا۔اس لئے مجھے یہ سزا ملی ہے۔اگر میں انشاء اللہ کہتا تو میرے پیسے چوری نہ ہوتے اور مجھے یہ نقصان اور پریشانی لاحق نہ ہوتی۔اسی پریشانی میں وہ واپس آرہا تھا۔تو کسی نے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔کہنے لگا بازار سے آیا ہوں انشاء اللہ۔بازار میں گیا تھا انشاء اللہ مگر پیسے چوری ہو گئے انشاء اللہ میں گدھا نہیں خرید سکا انشاء اللہ اب خالی ہاتھ واپس لوٹ رہا ہوں۔انشاء اللہ۔