خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 479 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 479

خطبات ناصر جلد اول ۴۷۹ خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۶۶ء اکٹھا کیا جائے تو وہ تین ہزار صفحہ کی کتاب بنے گی۔حالات بدلتے رہتے ہیں۔اور نئے نئے مضامین نکلتے رہتے ہیں۔تو جونئی باتیں ہمیں سمجھ آئیں وہ بھی ہم اس میں زائد کر دیں گے اور پھر ان سے کہیں گے کہ یہ ہیں سورہ فاتحہ کے مضامین !!! اگر یہ مضامین تم تمام بائیبل سے نکال دو تو ہم سمجھیں گے کہ تم کامیاب ہو گئے اور تمہیں فوراً پیسے دے دیئے جائیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ وہ چیلنج کو اپنے صحیح رنگ میں سمجھتے اور پھر اسے قبول کرتے انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سورۃ فاتحہ کا فلاں لفظ بائیبل کے اردو تر جمہ میں فلاں جگہ پایا جاتا ہے اور فلاں لفظ فلاں جگہ۔اس سے ثابت ہو گیا کہ سورۃ فاتحہ بائیبل میں پائی جاتی ہے تو یہ تو ایک طفلا نہ جواب ہے جسے سمجھدار پادری بھی قبول نہ کریں گے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک زندہ کتاب ہمارے سامنے رکھی اور فرمایا کہ قرآن کریم کے علوم پیچھے ہی نہیں رہ گئے بلکہ قیامت تک کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے مواد اس میں موجود ہیں۔علمی لحاظ سے کوئی اُلجھن پیش آئے کوئی مشکل مسئلہ ہو، قرآن کریم پر غور کریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اس کا یہ مطلب ہے اور باوجود یکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ( جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ) خدا تعالیٰ کی توحید کے ثبوت میں اور قرآن کریم کی صداقت کے ثبوت میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے شمار دلائل اور براہین پیش کئے ہیں پھر بھی آپ نے یہ نہیں کہا کہ قرآنی علوم کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔بلکہ فرمایا کہ غور کرو، تدبر کرو، بار بار پڑھو اور دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قرآن کریم کے علوم سے منور کرے وہ نئے سے نئے مضامین تمہیں سکھاتا چلا جائے گا۔قرآن ایک ایسا خزانہ ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے اور اتنا قیمتی خزانہ ہے کہ اگر انسان کے دل میں واقعی نور ہو اور اس کے دماغ میں فراست ہو تو اس کے ایک ایک موتی کی کوئی قیمت نہیں ڈالی جاسکتی۔اس کے مقابلہ میں دنیا کے جواہرات بالکل لاشئی ہیں مثلاً قرآن کریم میں ارشاد ہوا ب ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ کہ تم دعا کرو میں تمہیں دوں گا۔اب یہ ایک مضمون ہے نا ! جو بیان ہوا