خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 398
خطبات ناصر جلد اول ۳۹۸ خطبہ جمعہ ۱۶ رستمبر ۱۹۶۶ء اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک ہدایت اور ایک تعلیم دی ہوئی ہے۔اگر تم غور سے کام لو، اگر تم اس کے مطالب اور معارف تلاش کرنے کی کوشش کرو اور جب شیطان تم پر حملہ آور ہو رہا ہو قرآن کریم ہاتھ میں لے کر تم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔تو وہ تم پر غالب نہیں آ سکتا اور نہ تمہیں بیمار کر سکتا ہے بلکہ قرآنی نور تمہارے سینوں اور دلوں میں اس طرح پھیل جائے گا کہ شیطان جو ظلمت میں دیکھتا ہے اور نور سے ڈرتا ہے تمہارے سینہ و دل کے قریب بھی آنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔تو فرمایا کہ ہماری یہ تعلیم ( قرآن کریم) ایک شفاء ہے۔اور اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ جو بشارتیں یہ دیتا ہے جب وہ پوری ہو جاتی ہیں تو وہ شفاء کا کام دیتی ہیں اور شیطان کے اس وسوسہ کو دور کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو ترقیات، کامیابیوں اور فتح و نصرت کے وعدے کئے تھے وہ جھوٹے تھے وہ پورے نہیں ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی بہت سی بشارتیں ایک لمبا عرصہ گزرنے اور منکرین کوٹھٹھا اور استہزاء کر لینے کا موقعہ دینے کے بعد پوری ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُ إِلَّا غُرُورًا - (الاحزاب : ۱۳) یعنی جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے کہنے لگ گئے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا۔جب دیر ہو جاتی ہے تو یہ وسوسہ شیطان ان کے دل میں ڈال دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۱۸۶۸ء میں یہ الہام ہوا کہ ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ اس پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے پورے ہونے کے سامان پیدا نہ کئے تو دشمن نے ہر طرح سے اس کا مذاق اڑایا اور استہزاء کیا اور ٹھٹھا سے باتیں کیں۔تب قریباً ایک سوسال بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دے کہ گیمبیا جو مغربی افریقہ کا ایک ملک ہے