خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 399
خطبات ناصر جلد اول ۳۹۹ خطبہ جمعہ ۱۶ رستمبر ۱۹۶۶ء اسے آزاد کرایا اور پھر وہاں ایک احمدی مسٹر سنکھیے صاحب کو جوا اپنی جماعت کے پریذیڈنٹ بھی تھے گورنر جنرل بنا دیا۔پھر انہوں نے مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کپڑا بطور تبرک طلب کیا اور لکھا کہ میں نے بڑی دعائیں کی ہیں اور بڑے خشوع اور تضرع کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھکا ہوں کہ وہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑے سے برکت حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔پہلے مجھے گھبراہٹ تھی کہ ان کے مطالبہ کے بعد انہیں کپڑا ملنے میں غیر معمولی دیر ہو رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور ہی تھی۔آخر وہ کپڑا ان کو یہاں سے روانہ کر دیا گیا اور وہ کپڑا ان کو جس دن صبح بذریعہ ڈاک ملا اسی رات کو بی۔بی۔سی سے یہ اعلان ہوا کہ ان کو ایکٹنگ گورنر جنرل سے گورنر جنرل بنا دیا گیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دل میں خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس رسول کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے شدید محبت پیدا ہو گئی جس محبت کا اظہار انہوں نے پہلے ایک تار اور پھر ایک خط کے ذریعہ کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک اور دنیوی فضل کیا۔آج ہی ان کا تار ملا ہے جس میں انہوں نے اطلاع دی ہے کہ مجھے حکومت برطانیہ نے Knight hood ( نائٹ ہڈ ) عطا کیا ہے میری طرف سے جماعت کو مبارکباد پہنچا دیں۔جہاں اللہ تعالیٰ ان کے لئے جسمانی اور روحانی برکتوں کے سامان پیدا کر رہا ہے وہاں ان کے ماحول میں بھی ایک تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔چنانچہ پچھلے خط میں انہوں نے مجھے یہ اطلاع دی تھی کہ ہمارے ملک میں لوگ احمدیت کی صداقت اور حقانیت کی طرف متوجہ ہور ہے ہیں۔بیرونی ممالک میں جو نئے نئے احمدی ہو رہے ہیں ان کے لئے خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر رہا ہے کہ انہیں روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیوی ترقی بھی حاصل ہو جاتی ہے تا کہ ان کے دل ہر طرح کی نعمتوں کے حصول کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں۔اس وقت میں یہ مثال دے رہا تھا کہ یہ الہام ۱۸۶۸ ء میں ہوا تھا پھر قریباً سو سال تک یہ الہام پورا نہیں ہوا۔مومن کا دل تو یقین سے پر تھا اور وہ جانتا تھا کہ ہر ایک بشارت کے پورا