خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 364

خطبات ناصر جلد اول ۳۶۴ خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۶۶ ء کرتے رہیں کہ اس کی راہ میں ہماری قربانی دینے کی طاقت اور استعداد ہمیشہ بڑھتی چلی جائے تا کہ ہم ہمیشہ پہلے کی نسبت زیادہ سے زیادہ اس کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں۔اس کے بعد میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق کہ وہ بھی انفاق فی سبیل اللہ ہی کی ایک شق ہے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ جماعت احمد یہ سچے مسلمانوں کا نمونہ دکھاتے ہوئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلانے کی غرض سے اور بھی زیادہ مالی قربانیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرے اور اس مالی قربانی کو اس حد تک پہنچائے کہ دنیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کی صداقت پر گواہ ہو۔صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا یعنی اولین و آخرین ہر دو گروہ کی مالی قربانیاں ایک کی شان اور عظمت اور عزت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں رکھنے والی ہوں۔گزشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر فضل عمر فاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔اس وقت میں نے اپنے بھائیوں سے یہ خواہش کی تھی کہ اس فنڈ میں پچیس لاکھ روپیہ وہ جمع کریں۔سوائے محمد رسول اللہ کے فرزند جلیل مسیح محمدی کی جانثار اور خدائے بزرگ و برتر کی محبوب جماعت ! آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے خلوص نیت اور صمیم قلب کے ساتھ فاؤ نڈیشن کے لئے جو وعدے کئے ہیں ان کی رقم پچیس لاکھ سے بڑھ گئی ہے اور ابھی اور وعدے آ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس اخلاص اور ایثار کو قبول فرمائے اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے آپ کی قربانیوں میں برکت ڈالے اور آپ کو اس دنیا میں بھی اتنا دے، اتنا دے کہ آپ سیر ہو جائیں اور اُخروی زندگی میں بھی اپنی تمام نعمتوں سے آپ کو نوازے تا آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں آپ کے صحابہ کی معیت حاصل کر سکیں۔اب جبکہ وعدے اپنی مقررہ حد سے آگے بڑھ چکے ہیں ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے اور