خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 365
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۶۵ خطبہ جمعہ ۱۹ /اگست ۱۹۶۶ء یہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ وعدے جو تین سال میں وصول ہونے ہیں ان کا کم از کم ۱٫۳ سالِ رواں یعنی سال اول میں وصول ہو جائے۔اس وقت تک جو وعدے ہو چکے ہیں ان کے لحاظ سے قریباً ۹، ۱۰ لاکھ کی وصولی سال اوّل میں ہونی چاہیے چونکہ بہت سے ابتدائی مراحل میں سے اس تنظیم کو گزرنا تھا اور اس کے لئے صحیح معنی میں جو ہماری کوشش ہوئی ہے۔وہ مجلس مشاورت کے بعد ہوئی ہے اس لئے میں نے فضل عمر فاؤنڈیشن کا سال یکم مارچ سے تیس ۱٫۳۰ پریل تک مقرر کیا ہے۔ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ۱٫۳۰ پریل سے قبل کم از کم ۹ ، ۱۰ لاکھ روپے کی رقم جو ایک تہائی سے زیادہ ہوگی اور اگر وعدے زیادہ آگئے تو پھر اس سے بھی زیادہ رقم وصول ہونی چاہیے ) بہر حال موجودہ صورت میں ۹ ، ۱۰ لاکھ کی رقم ضرور وصول ہو جانی چاہیے۔اس وقت تک پاکستان کی جماعتوں اور احباب سے جو رقوم وصول ہوئی ہیں ان کی مقدار چار لاکھ سے اوپر تک پہنچ چکی ہے۔مجھے یقین ہے کہ جماعت اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتی ہے اور وہ انشاء اللہ ٫۳۰را پر یل سے پہلے ایک تہائی سے زیادہ اپنے وعدے ادا کر دے گی۔میں ایک تہائی (۱/۳) سے زیادہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بعض غریب احمدی دوستوں نے بڑی قربانی دے کر اس میں حصہ لیا ہے اور ساتھ ہی پوری رقم ادا بھی کر دی ہے۔ایک تہائی پر انہوں نے کفایت نہیں کی۔مثلاً سو روپیہ کا وعدہ لکھوایا تو سور و پیہ ہی دے دیا۔کئی مہینہ کی بات ہے گجرات کے ایک دوست یہاں تشریف لائے ( وہ بہت بوڑھے تھے اتنے بوڑھے کہ ان سے چلا نہ جاتا تھا ) اور مجھے پیغام بھجوایا کہ میں ضروری کام کے لئے ملنا چاہتا ہوں۔باوجود اس کے کہ وہ بہت کمزور تھے۔سیڑھیوں پر بھی نہ چڑھ سکتے تھے۔حضرت مصلح موعود کی محبت سے مجبور ہو کر وہ اتنا لمبا سفر کر کے آئے تھے۔میں اُتر ا اور ان سے ملا تو انہوں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا رو مال کھولا اور غالباً چند سو کی رقم تھی وہ نکال کر مجھے دی اور کہا کہ یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔خدا کے فضل سے ہماری جماعت بڑی قربانی کرنے والی ہے اور بڑی ہی محبت کرنے والی