خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 352
خطبات ناصر جلد اول ۳۵۲ خطبہ جمعہ ۵ راگست ۱۹۶۶ء میں تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا ہے اور اس وقت مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ جو نور میں نے اس دن دیکھا تھا وہ قرآن کا نور ہے جو تعلیم القرآن کی سکیم اور عارضی وقف کی سکیم کے ماتحت دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس مہم میں برکت ڈالے گا۔اور انوار قرآن اسی طرح زمین پر محیط ہو جائیں گے جس طرح اس نور کو میں نے زمین پر محیط ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی متعدد بار خود قرآن کو اور قرآنی وحی کو نور کے لفظ سے یاد کیا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ وہ نور جو تمہیں دکھایا گیا یہی نور ہے۔پھر میں اس طرف بھی متوجہ ہوا کہ عارضی وقف کی تحریک جو قرآن کریم سیکھنے سکھانے کے متعلق جاری کی گئی ہے اس کا تعلق نظام وصیت کے ساتھ بڑا گہرا ہے۔چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رسالہ الوصیت کو غور سے پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ واقع میں اس تحریک کا موصی صاحبان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔اس وقت میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔صرف ایک بات آپ دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسالہ الوصیۃ کے شروع میں ہی ایک عبارت لکھی ہے اور حقیقتا وہ عبارت اس نظام میں منسلک ہونے والے موصی صاحبان ہی کی کیفیت بتا رہی ہے کہ تمہیں وصیت کر کے اس قسم کا انسان بننا پڑے گا۔حضور فرماتے ہیں:۔”خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے۔جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر ، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ قتلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے لیکن اگر تم تلخی اٹھا لو گے ( یعنی اس نظام وصیت میں شامل ہو جاؤ گے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے تو حضور فرماتے ہیں ) تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے لیکن تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔