خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 331
خطبات ناصر جلد اول ۳۳۱ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء مطلب یہ ہے کہ سائنس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جس بات کو ایک سائنسدان نے قانونِ قدرت سمجھا اور کہا، کچھ عرصہ کے بعد مزید تحقیق اور تجس کے نتیجہ میں معلوم ہوا کہ دراصل وہ قانون قدرت نہیں تھا بلکہ قانونِ قدرت اور ہی تھا جس کو وہ غلط سمجھ رہے تھے اور اس دوسرے قانونِ قدرت کے ماتحت یہ واقعات رونما ہوئے تھے۔کہنے کوتو یہ ایک معمولی سی مثال ہے مگر ہے بڑی واضح اور وہ یہ کہ آگ جلاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا ہے کہ تو جلا۔یہ سنت اللہ ہے اور چونکہ وہ ( آگ ) الہی سنت کے ماتحت ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی اپنی اس قوت اور طاقت کو ثابت کرنے کے لئے کہ آگ میرے حکم سے ہی جلاتی ہے اس کو جلانے سے روک بھی دیتا ہے جیسے کہ ابراہیمؑ کے واقعہ میں خدا تعالیٰ نے فرما یا ینَارُ كُونِی بَرْدًا وَسَلمًا (الانبیاء:۷۰) تیرا نار رہنا میرے حکم سے تھا۔اب میرا حکم ہے کہ بردا وسلمًا بن جاؤ۔تو ایسے واقعات یہی ثابت کرنے کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا ہمیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ جس کے حکم سے کا رخانہ عالم چل رہا ہے۔حکم اور سنت اس کی یہی ہے کہ آگ جلاتی ہے۔انسان نے اس اصل اور اس حکم کے نتیجہ میں سینکڑوں ہزاروں فائدے حاصل کئے ہیں۔اگر یہ ہوتا کہ کبھی آگ جلاتی اور کبھی ٹھنڈا کرتی تو یہ بھی ہوتا کہ جس گاڑی پر بھاپ سے چلنے والا انجن لگا ہوتا کبھی تو وہ گاڑی لاہور سے کراچی پہنچ جاتی اور کبھی ملتان سے لاہور یہ اطلاع آتی کہ ہمیں بڑا افسوس ہے کہ وہ آگ جو جلاتی اور گرم کرتی تھی اب اس نے ٹھنڈا کرنا شروع کر دیا ہے اور جو پانی بوائلر میں ڈالا گیا تھا وہ برف بن گیا ہے۔گرمی کے دن تھے اس لئے برف کو ہم نے غریبوں میں تقسیم تو کر دیا ہے لیکن گاڑی آگے نہیں چل سکتی۔کیونکہ آگ نے اپنا عمل چھوڑ دیا ہے۔لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا۔اگر ایسا ہوتا تو انسان کے لئے ایک مصیبت پیدا ہو جاتی۔کوئی چیز بھی ہم بنا نہ سکتے۔کبھی بجلی روشنی کرتی اور کبھی بجائے روشنی کے اندھیرا کر دیتی پس اگر یہ ہوتا تو انسان کے لئے زندگی گزارنا مصیبت بن جاتا۔تو قانونِ قدرت کے مطابق یہ سارا کارخانہ چل رہا ہے۔اور یہ ایسے بنیادی اور حقیقی اور