خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 330

خطبات ناصر جلد اول ۳۳۰ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے یعنی اس اُمت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو قرآن کریم کی آیات کے معانی کھول کھول کر دنیا کو سنانے والے ہوں گے اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ قرآن کریم کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے ویسا ہی عملاً وقوع میں آیا ہے۔(۴) چوتھی صفت قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ قرانًا ہے۔قرآن کے معنی ہیں ایسی آسمانی کتاب جس میں پہلی کتب سماویہ کے بنیادی اصول اور ہدایتیں جمع ہوں۔یہی نہیں بلکہ قرآن کے معنی میں یہ بھی ہے کہ جس میں تمام علوم کے اصول بیان ہو گئے ہوں۔میں اس وقت تفصیل میں نہیں جا سکتا صرف ایک دنیوی اصول جو دنیا کے علوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ بتا دیتا ہوں اور قرآن کریم نے بڑے دھڑلے اور بڑے زور کے ساتھ اسے بیان کیا ہے وہ یہ کہ دنیا کا یہ مادی کا رخانہ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔یہ ایک بنیادی اصل ہے جس کا ہر دنیوی علم کے ساتھ تعلق ہے چنانچہ ہمارے علوم نے جتنی بھی ترقی کی ہے خصوصاً اب جو غیر مسلم مغربی اقوام نے اور بعد میں کچھ مشرقی اقوام نے دنیوی اور مادی علوم میں جو ترقی کی ہے ان کے ہر علم کی بنیاد اسی اصل کے اوپر ہے اور یہ اصل انہوں نے در اصل مسلمان سائنٹسٹ اور مسلمان علماء سے لیا ہے۔ڈارک ایجز “ جو کہلاتی ہیں یعنی وہ زمانہ جس میں عیسائی ملک اور غیر مسلم اقوام نہایت پستی کی حالت میں زندگی گزار رہی تھیں۔مسلمان علماء اور سائنٹسٹ ان ملکوں میں پہنچے اور ان لوگوں کو انہوں نے علم بھی سکھایا اور ساتھ ہی یہ بنیادی اصل بھی سکھا یا کہ دنیا کا ہر لم تبھی علم کہلا سکتا ہے یعنی اسے نظام میں باندھا جا سکتا ہے جب اس اصل کو تسلیم کیا جائے جو قرآن کریم نے بتایا ہے کہ کوئی چیز بھی قانون سے باہر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے جسے قانونِ قدرت کہتے ہیں ( جب ہم اسے قانونِ قدرت کہتے ہیں تو یہ ایک ناقص اصطلاح ہے۔جب ہم اسے سنت اللہ کہتے ہیں تو یہ ایک کامل اصطلاح ہے ) قرآن کریم نے اس کو اللہ کی سنت یا سنت اللہ کی کامل اصطلاح سے بیان کیا ہے کہ تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاتے۔جب میں نے یہ کہا کہ ” قانونِ قدرت ناقص اصطلاح ہے تو اس کا