خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 18
خطبات ناصر جلد اول ۱۸ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء دوڑے۔ممکن ہے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ ہم نے اس سال قادیان کی زیارت تو کر ہی لی ہے دوبارہ جانے کی ضرورت نہیں۔کچھ شاید اس لئے کمی ہوئی ہو کہ بعض لوگ دوبارہ سفر کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بعض لوگوں نے جماعت کے ایک حصہ میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ مرکز کے ساتھ وابستگی ( چونکہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ نہیں رہے صرف خلافت ہی ہے ) ضروری نہیں رہی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اُسی اول رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کے سارے عرصہ میں استحکام جماعت کی طرف ہی ساری توجہ دینی پڑی کیونکہ جماعت کو سنبھالنا بہت ضروری تھا۔جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میں ارتداد کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں بھی بعض کمزوریاں ظاہر ہو نے لگی تھیں۔پس حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ساری توجہ اور کوشش اور ساری جد و جہد یہی رہی کہ جماعت کو سنبھالا جائے اور جماعت کا استحکام مضبوط کیا جائے اور اس امر کا ثبوت ہمیں جلسوں کی تعداد سے ملتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو آخری جلسہ ۱۹۱۳ء میں ہوا اس میں الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۱۳ ء کے مطابق حاضرین کی تعداد پھر تین ہزار تک پہنچ گئی گویا حضور رضی اللہ عنہ نے جو استحکام جماعت کی طرف توجہ دی اس کا نتیجہ ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کے آخری جلسہ میں بھی حاضری ۱۹۰۷ء کے جلسہ کی تعداد تک پہنچ گئی۔گویا وہ کمزوریاں اور خامیاں جو اس وقت حضور رضی اللہ عنہ کی دور بین اور بار یک بین نگاہ دیکھ رہی تھی انہیں حضور ( حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ) دور کرنے میں کامیاب ہو گئے اور جماعت کو پھر سے مستحکم بنیا دوں پر کھڑا کر دیا اور پھر جلسہ میں حاضری کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کی برکات اور اس کے فضلوں کا ایک دھارا تھا جو ۱۹۱۴ء سے بہنا شروع ہوا اور جماعت کو کہیں سے اٹھا کر کہیں تک لے گیا۔چنانچہ ۱۹۱۴ء کا جلسہ جو خلافت ثانیہ کا