خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 298
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۹۸ خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء کے تمہارا اس کی ہدایت پر کان نہ دھر نا بتاتا ہے کہ اصل میں تم جزاء وسزا کے دن کے منکر ہو۔تم سمجھتے ہو کہ اسی دنیا میں تمہاری زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا اور تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہو گے اور اُخروی زندگی کوئی چیز ہی نہیں۔اسی لئے کافروں کے نزدیک اللہ تعالیٰ رب نہیں۔اور اگر وہ کچھ مشتبہ ساتخیل رکھتے بھی ہیں تو وہ اسے کریم نہیں مانتے اور اگر وہ عادتاً خدا تعالیٰ کی بعض صفات کو مانتے بھی ہیں تو اس کی بھی وہ یہ تعبیر کرتے ہیں کہ نہ ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور نہ ہی رب کریم کی ہمیں احتیاج ہے۔یہی دنیا ہی دنیا ہے۔یہاں ہی ہم زندہ رہیں گے۔یہیں ہم مریں گے اور مٹی میں مل جائیں گے اور جو کچھ ہم نے کرنا ہے اپنے وسائل سے، اپنی عقلوں سے، اپنے فکروں سے، اپنی تدبیر اور اپنے فریب سے کرنا ہے، آپ کریم کی ہمیں احتیاج نہیں۔غرضیکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ تم یوم حشر کے قائل نہیں اس لئے تم ربّ کریم کے مقابلہ میں کھڑا ہونے کی جرات کرتے ہو۔ان آیات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انهُ لَقُران کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ ایک ایسی ہدایت ہے کہ جس میں تمام صداقتیں اور علوم حقہ کے اصول آگئے ہیں اس کے بعد نہ کسی آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے اور نہ دنیوی علوم سیکھنے کے لئے کسی اور طرف منہ کرنے کی حاجت۔ہر لحاظ سے کامل اور مکمل اور انسانی فطرت کو تسلی دینے والی ہے اور جو اس کی اتباع کرتے ہیں اُن کو اجر کریم ملتا ہے۔ایسا اجر جو انسان کو خوش کر دیتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے پالیتا ہے۔اسے کسی اور کی طرف جانے کی احتیاج نہیں رہتی اور دینے والا وہ ہے جو رب کریم ہے اور کریمیت کا تعلق مالک یوم الدین سے بڑا گہرا ہے کیونکہ مالک ہونے کے لحاظ سے اس کی دو تجلیاں ظاہر ہوتی ہیں :۔ایک غصہ اور قبر کی تجلی اِنَّ بَطْشَ رَبَّكَ لَشَدِيدٌ (البروج : ۱۳) اور ایک رضا اور خوشنودی کی تجلی اور یہ کریم کی صفت سے ظاہر ہوتی ہے اور وہ اتنا دیتا ہے اتنادیتا ہے کہ لینے والے کو سیر کر دیتا ہے۔پس یہاں قرآن شریف کی شان کو قرآن کریم کے الفاظ سے ظاہر کیا گیا ہے یعنی