خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 297
خطبات ناصر جلد اول ۲۹۷ خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء اور صفیح کے معنی ہیں گناہوں کو معاف کرنے والا ، درگزر کرنے والا۔تو فر ما یا کہ جو شخص اس الذکر یعنی قرآن کریم ایسی کتاب سماوی کی جو اپنے اندر صفت کریم رکھتی ہے اتباع کرتا ہے اس کو میری طرف سے بشارت دے دو مغفرت کی بھی اور ایسے بدلے کی بھی کہ جس کے بعد انہیں کبھی خواہش پیدا نہ ہوگی کہ کاش ہمیں کچھ اور مل جاتا۔میں نے بتایا ہے کہ بدلہ دینے والی ذات بھی رَبّ کریم ہے۔فرمایا۔ايُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ - الَّذِى خَلَقَكَ فَسَونَكَ فَعَدَ لَكَ - في اي صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَبَكَ - كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ۔(الانفطار : ۷ تا ۱۰) یعنی اے انسان! تجھے کس نے تیرے رب کے بارہ میں مغرور اور دھو کہ خوردہ بنا دیا۔تجھے جرات کیسے ہوئی ؟؟ مَا غَرَكَ بِرَيْكَ الكَرِيمِ کے معنی ہیں کہ تیرے اندر اس کے خلاف کھڑا ہونے اور اس کی ہدایت کے خلاف عمل کرنے کی جرات کیسے پیدا ہوئی حالانکہ تیرا رب کریم ہے۔وہ مغفرت کرنے والا بھی ہے اور غیر متناہی انعامات اور احسانات دینے والا بھی ہے سخی ہے اور پھر سنی بھی ایسا کہ جس کی عطا کو حدود کے اندر مقید نہیں کیا جاسکتا۔فرمایا۔كلا بل تُكَذِبُونَ بِالدِّینِ کہ رب کریم کے خلاف تمہارا مغرور ہونا اور اس کے مقابل جرات کر کے کھڑے ہو جانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تم یومِ الدِّينِ ، يَوْمِ حِسَابِ اور يَوْمِ حَشْرٍ پر ایمان نہیں لاتے۔تو انَّهُ لَقُران کریم کا جیسا کہ میں نے بتایا ہے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ سے بڑا تريم گہرا تعلق ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ کتاب جو تمہیں دی گئی ہے اس کے بعد تمہیں کسی اور ہدایت نامہ کی ضرورت نہیں اور وعدہ تم سے یہ کیا گیا کہ اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو تمہیں ایسا بدلہ ملے گا کہ تمہاری روحیں خوش ہو جائیں گی اور تمہیں کسی اور چیز کی احتیاج محسوس ہی نہ ہوگی اور جو چاہو گے وہ تمہیں دیا جائے گا۔پھر انسان کو یقین دلایا کہ دینے والے کی طاقتیں اور ذرائع محدود نہیں بلکہ وہ ربّ ہے جس نے ساری دنیا کو پیدا کیا اور نشو و نما دیا اور سخاوت اس کی صفات کا ایک حصہ ہے۔وہ بہت زیادہ دینے والا ہے اور اتنا دینے والا ہے کہ لینے والا راضی ہو جائے۔لیکن باوجود اس