خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 283

خطبات ناصر جلد اول ۲۸۳ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۶۶ء جائیں تو وہ کہیں کہ زید بڑا اچھا، بڑا خرچ کرنے والا اور بڑا پیار کرنے والا ہے اور مسافروں کا بڑا خیال رکھنے والا ہے ہم اس کے ہاں گئے تو اس نے ہماری بڑی خاطر کی یہی حال اس خرچ کا ہے جو غلاموں کے لئے کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نیکی نہیں ، نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے پیسے یا مال کو ( مال کے معنی مملوکہ چیز کے ہیں انسان اپنے نفس کا بھی مالک ہے، اپنی عزت کا بھی مالک ہے۔اپنے پیسے کا بھی مالک ہے۔وغیرہ ) خرچ کرے تو عَلیٰ حُبّہ صرف خدا تعالیٰ کی محبت میں خرچ کرے۔خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی کے سوا کوئی غرض اسے مد نظر نہ ہو۔نہ تو اسے عزت کی خواہش ہو۔نہ وجاہت کی خواہش ہو نہ دنیوی شہرت کی خواہش اور نہ اس کا ذہن فخر ومباہات کے غبار سے آلود ہو بلکہ جب بھی اور جو کچھ بھی وہ خرچ کرے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے نتیجہ میں اور اس کی خوشنودی کے حصول اور اس کی رضا کے پانے کے لئے خرچ کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ نیک شمار نہیں ہوگا اور کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرے گا۔اسی طرح فرمایا کہ عبادت بجالا نا خواہ وہ نماز ہو۔یا مالی فرائض ( مثلاً زکوۃ ) ہوں یہ بھی حقیقی نیکی نہیں بلکہ نماز کو ان شرائط کے ساتھ بجالا نا جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہیں حقیقی نیکی ہے۔ان شرائط میں سے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے سوائے اس کے اور کوئی غرض نہ ہو کہ اس کی خوشنودی حاصل ہو۔تب یہ عبادت صحیح عبادت شمار ہوگی۔اگر کسی نے اپنے نفس کو پالا اور اسے موٹا کیا اور قربانی دینے کے لئے تیار نہ ہوا تو اس کے متعلق یقینا نہیں کہا جاسکتا۔و آقام الصلوۃ کہ اس نے نماز کو پورے شرائط کے ساتھ ادا کیا۔وَابْنَ السَّبِيلِ (مسافر) کے متعلق میں ایک بات بیان کر کے اپنے خطبہ کو بند کر دوں گا۔(ورنہ اس آیۃ کے مضامین بہت وسیع ہیں) اللہ تعالیٰ نے مسافر کے ساتھ ہمدردی ، اخوت کا سلوک کرنے اور اسے مالی امداد دینے پر بڑا زور دیا ہے اور مختلف مقامات میں زور دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم ہر اس شخص سے جو ہمیں اپنے ماحول میں اجنبی نظر آئے واقفیت پیدا کریں دور نہ ہم اس کی خدمت نہیں کر سکیں گے۔