خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 282 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 282

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۸۲ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۶۶ء جاتی تھیں لیکن ان کا یہ خیال کہ آنے والا بنی اسرائیل (یہود) میں سے ہوگا ان کے ایمان میں روک بن گیا اور صرف اسی غلط خیال کے نتیجہ میں یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے محروم ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُمتی اور خیلی اور غیر مستقل نبوت کا دعویٰ کیا اور چونکہ بہت سے مسلمانوں میں اسکمت والی کیفیت اور ذہنیت نہیں پائی جاتی تھی بلکہ وہ خدا کی ماننے کی بجائے اپنی منوانا چاہتے تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے سے محروم ہو گئے۔آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتَنى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَفِي الرقاب (البقرة : ۱۷۸) کہ وہ اپنا مال دیتا ہے۔رشتہ داروں کو ، بیتا می مسکینوں اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور غلاموں کے آزاد کرانے کے لئے بھی۔لیکن یہ نیکی نہیں جب تک ” عَلی حُبه نہ ہو۔66 یہ خرچ مومن بھی کرتا ہے اور کا فر بھی کرتا ہے کیونکہ بہت سے دنیا دار آپ کو نظر آئیں گے۔جو اپنے رشتہ داروں پر اس لئے خرچ کر رہے ہوں گے کہ اس طرح خاندانی اتحاد اور اتفاق قائم رہے گا اور ان کی عزت اور وجاہت قائم رہے گی وہ اپنے خاندان میں بھی بڑے سمجھے جائیں گے اور دنیا بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھے گی۔اسی طرح بہت سے دنیا دار مختلف اغراض کے پیش نظریتا می کی پرورش کے لئے خرچ کرتے ہیں اسی طرح مساکین کی حمایت کا دم بھرنے والے دنیا دار محض دنیا کی خاطر اپنے مال دیتے ہیں۔بہت سی پارٹیاں آپ کو انگلستان اور امریکہ میں نظر آئیں گی کہ جنہیں کمزوروں کے ساتھ کوئی محبت اور پیار نہیں ہوتا۔لیکن اس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو اپنے سینے سے لگا یا تو ہمیں سیاسی برتری حاصل ہو جائے گی۔وہ ان کے لئے دوڑ دھوپ کرتی رہتی ہیں۔اسی طرح مسافروں پر بھی اپنا پیسہ خرچ کر کے احسان کیا جاتا ہے تا کہ جب وہ اپنے وطن