خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 12
خطبات ناصر جلد اول ۱۲ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء دیئے جاتے تھے جیسا کہ خود اس پاک وجود نے فرمایا:۔ع لفاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِي کہ اس زمانہ میں دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑے مجھے کھانے کے لئے دیئے جاتے تھے۔پس گھر والے بھی اس کو نہ پہچانتے تھے۔وہ وجود اپنے خاندان سے بھی اوجھل اور پوشیدہ تھا۔پھر جب ہم علاقہ کو دیکھتے ہیں تو اس میں اس مقدس وجود کا خاندان ایک رئیس خاندان تھا جور و سااس پاک وجود کے والد کی ملاقات کے لئے آتے اور ان سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے وہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کا کوئی صاحبزادہ مرزا غلام احمد ( علیہ الصلوۃ والسلام ) کے نام سے بھی موسوم ہے۔وہ ان کا متعارف نہیں تھا اور وہ اس سے متعارف نہیں تھے۔پھر جس قصبہ میں وہ پاک وجود پیدا ہوا وہ قصبہ بھی غیر معروف تھا۔اس قصبہ میں دنیا کو کوئی خوبی نظر نہ آتی تھی۔دور کی دنیا تو کیا خود اس ملک کی نگاہ سے بھی قادیان اوجھل اور چھپا ہوا تھا۔ع کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر اس پس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے ان ہزاروں لاکھوں خدمت گزاروں میں سے جو آستانہء الوہیت پر پڑے رہتے تھے اس پاک وجود کو غلبہء اسلام کے لئے اور اپنی قدرت کی زندہ تجلیات کے لئے چنا اور علاوہ اور بشارتوں کے اسے ایک یہ بشارت بھی دی کہ ہم تجھے کثیر جماعت دیں گے، دنیا تیری مخالفت کرے گی، تجھے مٹانے کے درپے ہو جائے گی۔ہرتد بیر اور ہر حربہ اختیار کیا جائے گا کہ تو مغلوب ہو جائے ناکام رہے۔لیکن ہم تجھ سے یہ وعدہ کرتے ہیں اور تجھے بشارت دیتے ہیں کہ غلبہ آخر کار تجھ ہی کو حاصل ہو گا اور مخلصین اور فدائیوں کی ایک کثیر جماعت تجھے عطا کی جائے گی۔ان بشارتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر پورا تو کل اور بھروسہ رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ کام شروع کیا۔جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپر د کیا تھا اور چونکہ خدا تعالیٰ ایک بڑی باوفا ہستی ہے۔اس لئے اس نے بھی اُسی طرح آپ سے وفا کی جس طرح آپ اس سے وفا کر رہے تھے۔یہ کثیر اور ہر دم بڑھتی ہوئی جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام