خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 241

خطبات ناصر جلد اول ۲۴۱ خطبہ جمعہ ۲۹ را پریل ۱۹۶۶ء موڑتے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری تعلیم کی طرف پیٹھ کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے اوامر و نواہی کی پابندی سے گریز کرتے ہیں اور شریعت کا جوا بشاشت کے ساتھ اپنی گردنوں پر رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اس لئے کہ اسْتَكْبَرُوا عَنْهَا ان کے دلوں میں تکبر پایا جاتا ہے۔انہیں یہ یادرکھنا چاہیے لا تُفتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ کہ آسمانِ روحانی کے دروازے ان پر ہر گز نہیں کھولے جائیں گے بلکہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے جائیں گے اور وہ زمین کے کیڑے بن کر رہ جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی لعنت کا مورد بنیں گے اور شیطان میں ہو کر شیطان بن جائیں گے اور آسمان کی بلندیوں کی بجائے جو انسان کے لئے ہی پیدا کی گئی تھیں۔اندھیروں کی اتھاہ گہرائیاں ان کے حصہ میں آئیں گی۔تکبر کے مقابل پر عربی زبان میں تواضع کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جو لوگ تکبر کی وجہ سے ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے اور ہمارے احکام سے اعراض کرتے ہیں اور ہماری تعلیم کی طرف متوجہ نہیں ہوتے روحانی رفعتوں کے دروازے ان پر نہیں کھولے جاتے۔یہاں سوال پیدا ہوتا تھا کہ پھر وہ کن پر کھولے جائیں گے؟ اس کے جواب کے لئے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ملتا ہے۔حضور نے فرمایا:۔إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ - کہ جب اللہ کا ایک بندہ اپنے مقام عبودیت کو پہچانتے ہوئے اور اپنی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اور اپنے لائے محض ہونے کا اقرار کرتے ہوئے۔تکبر کا نہیں بلکہ اس کی ضد ( تواضع ) کا مظاہرہ کرتا ہے اور انکسار اور عجز کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا ہے اور اس کی زبان اور اس کا دل بلکہ اس کے جسم کا ذرہ ذرہ پکا رہا ہوتا ہے۔ہمچو خاکم بلکہ زاں ہم کمترے کہ میں تو خاک ہوں بلکہ خاک پامیں بھی شاید کچھ خوبیاں ہوں۔لیکن مجھے اپنا نفس اور اپنا وجود اس خاک سے بھی کمتر نظر آ رہا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل فرماتا ہے اور فضل فرماتے ہوئے