خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 240

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۴۰ خطبہ جمعہ ۲۹ را پریل ۱۹۶۶ء ہوتا ہے غرضیکہ تکبر کے کئی چشمے ہیں اور مومن کو چاہیے کہ ان تمام چشموں سے بچتا ر ہے اور اس کا کوئی عضو ایسا نہ ہو جس سے تکبر کی بو آوے اور وہ تکبر ظاہر کرنے والا ہو۔صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاق رذیلہ کے بہت سے جن ہیں اور جب یہ نکلنے لگتے ہیں تو نکلتے رہتے ہیں مگر سب سے آخری جن تکبر کا ہوتا ہے جو اس میں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انسان کے سچے مجاہدہ اور دعاؤں سے نکلتا ہے۔بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہوتا ہے۔اس لئے تکبر کی بار یک در بار یک قسموں سے بچنا چاہیے۔ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ کوئی متکبر انسان قرآنی فیوض اور برکات کا وارث نہیں بن سکتا صرف اور صرف فروتنی کی چابی سے قرآنی علوم کا دروازہ کھولا جاسکتا ہے صرف اور صرف عجز کی رداء اور چادر پر انوار قرآنی کا رنگ چڑھ سکتا ہے اور صرف اور صرف منکسرانہ مزاج ہی قرآن کریم کے مزاج سے مطابقت کھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔جب تک انسان پوری فروتنی اور انکسار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھائے اور اس کے جلال و جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجوع نہ کرے۔قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا اور روح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا۔جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔چونکہ آسمان روحانی کی سب رفعتیں قرآن کریم کے فیوض سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں اور تکبر کے نتیجہ میں قرآن کریم کے فیوض سے انسان محروم ہو جاتا ہے اس لئے متکبر پر آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں فرماتا ہے :۔إنَّ الَّذِينَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ - (الاعراف: ۴۱) کہ وہ لوگ جو ہمارے نشانات کا انکار کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے احکام سے منہ