خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 219
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۱۹ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء انہیں تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔کیونکہ لوگ ان کے مخالف ہو جاتے ہیں کبھی وہ انہیں قتل کرنے کے در پے ہوتے ہیں کبھی ان کی بے عزتی کرتے ہیں اور کبھی ان کا بائیکاٹ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ہزاروں قسم کے داؤ پیچ ہیں جو مخالف لوگ شیطانی وسوسوں کی وجہ سے اختیار کرتے ہیں۔تو فرمایا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ان کو تکلیف میں ڈالا جاتا ہے تو وہ لوگوں کے عذاب کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتے ہیں فرمایا کہ اگر تم کمزوری دکھاؤ گے تو تمہیں وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جو میں نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے اور اگر تم مضبوطی دکھاؤ گے اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو گے تو تمہیں صرف وہ عذاب جھیلنا پڑے گا جو یہ محدود طاقتوں والے انسان پہنچا سکتے ہیں۔اب خود اندازہ کر لو کہ ان دو عذابوں میں سے کون سا عذاب زیادہ شدید اور کونسا عذاب زیادہ دیر پا ہے ان دو عذابوں میں سے ایک عذاب تمہیں ضرور ملے گا چاہو تو بندوں کی ایذارسانی کو قبول کر کے میرے عذاب سے بچ جاؤ، چاہو تو اس عارضی عذاب سے بچنے کی خاطر میرا وہ عذاب مول لے لو جس کا زمانہ اتنا لمبا ہے کہ تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔محاورہ میں وہ ابدالآباد کا زمانہ بھی کہا جا سکتا ہے اگر چہ وہ ہمیشہ کے لئے نہیں لیکن اس کا زمانہ اتنا لمبا اور اس کی شدت اتنی ہیبت ناک ہے کہ اگر ہم اسے ہمیشہ کا عذاب بھی کہہ دیں تو غلط نہیں ہوگا تو فرماتا ہے کہ جب لوگ تمہیں میری وجہ سے تکلیف پہنچانے لگیں ، دکھ دینے لگیں اور تمہارے لئے عذاب کے سامان مہیا کر دیں تو تمہیں میرے عذاب کا تصور بھی کر لینا چاہیے۔اس تصور سے تم لوگوں کے عذاب پر صبر کرنے کے قابل ہو جاؤ گے اور تمہارے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ آیا لوگوں کے عذاب کو تم قبول کرو گے یا میرے عذاب کو جو ایک بڑا لمبا اور شدید عذاب ہے۔سوکوئی عقلمند انسان جو خدا پر ایمان اور یقین رکھتا ہو کبھی یہ نہیں کہہ سکتا اور نہ یہ پسند کر سکتا ہے کہ لوگوں کے عذاب سے بچ جائے اور خدا کے عذاب میں مبتلا ہو۔ہاں بعض بد قسمت لوگ ایسے ہوتے ہیں جولوگوں کے عذاب کو دیکھ کر ٹھو کر کھا جاتے اور ارتداد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔پس ایک تیسری قسم کا فتنہ جو ایمان کے اعلان کے بعد مومن کے سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ